تاریخ احمدیت (جلد 7)

by Other Authors

Page 383 of 742

تاریخ احمدیت (جلد 7) — Page 383

پھر لکھا :- ۳۷۰ یمیں نے جو قدم اُٹھایا ہے محض خدا کے لئے اُٹھایا ہے اور جماعت کے اندر ایک بہت بڑا بیگار مشاہد کر کے جو بہت سے لوگوں کو دہریت کی طرف لے جاچکا ہے اور بہتوں کو لے جانے والا ہے۔اس کی اصلاح کی ضرورت محسوس کر کے بلکہ اس کو ضروری بیان کر اُٹھایا ہے۔میری آوازہ آج نہیں تو گل ، گل نہیں توپر سوں سنی جاوے گی۔اور ضرور سُنی جاوے گی انشاء اللہ تعالے کیونکہ وہ آواز اپنے اندر حق رکھتی ہے اور حق کبھی دبایا نہیں جاسکتا۔اس سے قبل بھی لوگ اُٹھے اور ناکام رہے لیکن مجھے اپنی کامیابی پر خدا تعالے کی مدد اور نصرت اور تائید کے ساتھ پورا یقین ہے کیونکہ میں اس کی ذات پر بھروسہ کر کے اسی کے پیارے مسیح موعود کی لائی ہوئی تعلیم اور اس کی بنائی ہوئی مقدس جماعت میں جو بگاڑ پیدا ہو کر اسے تباہی کے گڑھے کی طرف لے جانے والا ہے۔اس کی اصلاح کے لئے کھڑا ہوا ہوں“ ر مصلح» بیسویں صدی کا یہ عجیب و غریب "مصلح " تھا جو کل تک عجیب و غریب اور نام نہاد سے غیر مسائلین کو " خوارج " کے نام سے موسوم کرتا آرہا تھا، اب خلافت ثانیہ سے وابستہ احمدیوں کو ان کے عقائد تعلیم کو صحیح مجھنے کے باوجود بھی خوارج قرار دینے اور اس کے کثیر حصہ کو دہریہ بھی ثابت کرنے لگا۔بایں ہمہ مصری صاحب ایک طرف غیر مبائین سے ملے ہوئے سے پمفلٹ " جماعت احمدیہ کی خدمت میں ایک درہ مندانہ اپیل " مجھ ۲ (از شیخ عبد الرحمن صاحب مصری) نے شیخ مصری صاحب نے مولوی محمد علی صاحب کو خطاب کرتے ہوئے لکھا ” حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد ایک گروہ خوارج کا نکلا۔جس نے خلفاء کی بیعت کا یہ کہتے ہوئے کہ الطَّاعَةُ لِلَّهِ وَالْأَمْرُ شُورَى بَيْنَنَا انکار کر دیا اسی طرح آنجناب صلے اللہ علیہ و آلہ وسلم کے بروز کے بعد آپ نے اس کے خلیفہ کی بیعت سے یہی کہہ کر انکار کر دیا۔والفضل ۱۳۰ جنوری ۱۹۲۳ صفحه ۱۹ اس عقیدہ کے برعکس مصری صاحب نے نظام خلافت سے بغاوت کے بعد ینگ اسلام " دیکم فروری سن از صفحه ۱۷ میں لکھا۔" میں اس بات کو دیکھ کی ہمیشہ دریائے حیرت میں فرق رہتا ہوں کہ کس طرح وہ جماعت جسے حضرت مسیح موعود علیہ اسلام اپ نے بعد اس لئے چھوڑ گئے تھے کہ وہ اسلام کو از سر نو زندہ کرے۔۔۔۔کس طرح بجائے حقیقی مسلمانوں کی اقتداء کرنے کے خوارج کے نقش قدم پر چل رہی ہے " ( اس تعلق میں مولانا سید احمد علی صاحب کا مضمون شائع شدہ فاروق " ع را پریل ر صفر و قابل مطالعہ ہے اور جیسا کہ حضرت خلیفہ اسیح الثانی نے اپنے ایک خطبہ جمعہ میں ارشاد فرمایا " بہت ہی لطیف ہے" اور "جماعت کے دوستوں کو چاہیے کہ وہ حوالوں کو یاد رکھیں " " فاروق ۳۸ اپریل سنی اور صفحه ۸ کالم ۳۰ به