تاریخ احمدیت (جلد 7) — Page 380
جماعت احمدیہ کے خلاف حضرت امیر المومنین خلیفة البیع الثانی کا یہ کتاب الفضل اور جوان الہ کے صفحہ پر شائع ہوا جس کے بعد مصری صاد بنے ، ہر جولائی ۹۷ہ کو اپنی جعلی نخود ساختہ اور نام نہاد امارت کا ڈھونگ رچ کر مصری صا کی شفق فرمینوں کی طرح ایک خفیہ تنظیم جماعت کے خلاف قائم کرلی جس کا ذکر حضرت مسیح موعود کے ایک الہام میں ملتا ہے که فریمی بین مسلط نہیں کئے جائیں گے تا اس کو ہلاک کریں۔مصری صاحب نے خفیہ تنظیم کی تشکیل کے بعد مخالف اشتہاروں اور پوسٹروں کی وسیع پیمانہ پر اشاعت شروع کر دی۔اس موقعہ سے دشمنانِ احمدیت نے خوب فائدہ اُٹھایا اور ہر رنگ میں مں ختنہ کی پشت پناہی کی بخصوصاً غیر مبائع اصحاب نے مصری صاحب کے عائد کردہ فحش اور ناپاک الزامات بقیه حاشیه شتر گذشته - لیکن بد قسمتی سے چاقو کا خم کاری ثابت ہوا، اور ملتانی صاحب ۱۳ اگست کو دارفانی سے کوچ کرگئے۔شاہ دپیغام صلح مار است در صفحه ۱۰۰ اور میاں عزیز حمایتی گر بھی مچون حتہ کو پھانسی دے دیا گیا۔میاں عزیز احمد کی نعش قادیا میں آئی تو اگرچہ حضور نے دوسروں کو اس کا جنازہ پڑھنے کی اجازت دے دی، مگر ساتھ ہی فرمایا :- اگر قانون اجازت دے تو شریعت اس میں ہرگز روک نہیں کیونکہ گنہ کے بعد اول توبہ دودم مرا دی یا قانونی اگیا اے تو ایسے شخص کا جنازہ پڑھنا منع نہیں ہے۔ہاں چونکہ میاں عزیز احمد صاحب کا فعل یہ مہر حال گندہ ہے، جنازہ کی کوئی ایسی صورت پیدا نہیں ہونی چاہیئے کہ اُسے قومی رنگ دیا جائے " نا حاشیہ متعلقہ فخر ہذا "الحکم اکتوبر در صفحه "تذکره طبع دوم صفحه ۱۴۲۴ سے مصری صاحب اور ان کے ساتھی اوتھا تویہ کرتے تھے کہ وہ احمدی ہیں۔مگر ان لوگوں کی احمدیت یعنی یہانتک پہنچ چکی تھی کہ فخرالدین صاحب ملتانی کی طرف سے احمدیت کے مخالف اخبار" "زمیندار" میں قادیان میں نیا امیرالمومنین منتخب کر لیا گیا خلیفہ بشر کو تخت سلطنت سے علیحدہ ہو جانے کا حکم " کے پورے صفحہ کے عنوان سے ایک لمبا تار شائع کر دیا کہ قادیان ۲۸ جولائی مجلس احمدیہ مرزائیوں کی اس جماعت کا نام ہے جنہوں نے قادیان کے موجودہ خلیفہ (موسیوبیشی کے ساتھ رشتہ وفا توڑ دیا ہے۔اس جماعت نے ، جولائی کو ایک غیر معمولی اجلاس منعقد کر کے فیصلہ کیا کہ شیخ عبد الرحمن مصری امیر جماعت کی امارت کو جملہ ارکان نے قبول کر لیا ہے اس لئے اُن کے امیر ہونے کا اعلان کر دیا بھائے مجلس امیر جماعت کے اس مطالبہ کی تائید کرتی ہے کہ حضرت امیر نے مرزا بشیر کے خلاف جو اتر استان عائد کئے ہیں۔۔۔۔ان کی جانچ پڑتال اور تفتیش کی غرض کے پیش نظر ایک آزاد کمیشن کا تقرر فی الفور عمل میں لے آیا جائے۔اگر یہ الزامات صحیح ہوں تو۔نیا خلیفہ منتخب کر لیا جائے۔اور جب بعد یاد خلیفہ کا انتخاب اس میں آجائے تو میں امید کو توڑ دیا جائے۔یہ بھی فیصلہ کیا گیا کہ جو حضرات خفیہ طور پر مجلس احمدیہ کے دائرہ رکنیت میں شامل ہوں ان کے اسماء گرامی صیغہ راز میں رکھے جائیں" د زمیندار مورخہ ۲۹ جولائی ۹۳۷ه کولله الفضل" جولائی صفر)۔اس تار کا خلاصہ بڑے طمطراق سے اخبار پیغام صلح ہور نے سر جولائی 2ء کے الیشوع میں بھی شائع کیا۔