تاریخ احمدیت (جلد 7)

by Other Authors

Page 379 of 742

تاریخ احمدیت (جلد 7) — Page 379

اس کا علم ہوا۔اور اسی وقت ان کو اس کی اطلاع کر دی گئی۔اس کے چند گھنٹہ بعد آپ کا تیسرا خط ملا کہ اگر چوبیس گھنٹہ تک آپ کی تسلی نہ کی گئی تو آپ جماعت سے علیحدہ ہو جائیں گے سوئیں اس کا جواب بعد استخارہ لکھ رہا ہوں کہ آپ کا جماعت سے علیحدہ ہونا بے معنی ہے جب سے آپ کے دل میں وہ گند پیدا ہوا ہے جو آپ نے اپنے خطوں میں لکھا ہے۔آپ خدا تعالے کی نگاہ میں جماعت سے خاریج میں۔خدا تعالیٰ اب بھی آپ کو توبہ کی توفیق دے۔پھر جب سے آپ نے میرے خط میں ان خیالات کا اظہار کیا ہے۔اسی وقت سے آپ جماعت سے میری انگاہ میں بھی الگ ہیں۔لیکن اگر آپ کو میری تحریر کی ہی ضرورت ہے۔تو میں آپ کو اطلاع دیتا ہوں کہ آپ خدا تعالیٰ کے نزدیک تو ان خیالات کے پیدا ہونے کے دن سے ہی جماعت احمدیہ سے خارج ہیں اور ان خطوط کے بعد جو حال میں آپ نے مجھے لکھے ہیں ہمیں بھی آپ کو جماعت سے خارج سمجھتا ہوں اور اس کا اعلان کرتا ہوں۔آپ نے مجھے بہت سی دھمکیاں دی ہیں۔میں ان کا جواب کچھ نہیں دیتا۔میرا معاملہ خدا کے سپرد ہے اگر میں اُس کا بنایا ہوا خلیفہ ہوں۔اگر وہ الہامات جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو میرے بارہ میں ہوئے ہیں اور وہ بیسیوں خوا ہیں جو اس بارہ میں مجھے آئی ہیں اور وہ سینکڑوں خواہیں جو دوسروں کو آئی ہیں درست ہیں تو خدا تعالے باوجود آپ کے ادعار شوخ و اثر کے آپ کو نا کام کرے گا۔وَما توفيقي إلا الله العلي العظيم خاکسار مرزا محمد و احمد ) ۲۴ جون ۱۹۳۷ ) بقید حاشیه نفر گذشتہ مفروضہ مظالم کی داستانیں پھیلا کر ادیان اور اس کے ماحول میں خاص طور پر ایک خرنا مظالم اور اس ام کشیدگی کی فضا پیدا کردی۔ملتانی صاحب نے انہیں دنوں ایک قلمی اشتہار " فحش کا مرکز " بورڈ پر چسپاں کیا جس میں حضرت خلیفہ المسیح الثانی کو شرمناک گالیاں دی گئی تھیں۔اس اشتہار سے مشتعل ہو کر قادیان کے ایک قلعی گرمیاں عزیز اتنی اگر تے کو ملتانی صاحب کہ چھا تو سے زخمی کر دیا اور جیسا کہ انہوں نے ایڈیشنل ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ صاحب گورداسپور کی عدالت میں بیان دیا۔اُن کی نیت قاتلانہ حملہ کی نہ تھی۔بلکہ اس سے غرض یہ تھی کہ وہ ایسے گندے اشتہار شائع کرنے سے بازو یہ ہے (بقیہ اشیا گلے محمد پور حاشیه متعلق صفحه بلا سے افضل ۱۹۳۷ میں اکثر خود میں چھپ گئی تھیں جن کے پڑھنے سے خدا تعالیٰ کا حیرت انگیز تصرف " نظر آتا ہے کہ ان دنوں جبکہ مصری صاحب اپنے اخلاص و فدائیت کا بظا ہر نمونہ سمجھے جاتے تھے اور جماعت میں ان کو یہ جگہ عزت و احترام سے دیکھا جاتا تھا ، خدا تعالے کی طرف سے قبل از وقت بکثرت یا کھائی گئیں کہ مصری صاحب خلافت سے الگ ہونے والے " يفضل" ۲۶ جون ۱۹۳۰ء صفحه ۱ * ہیں کا i