تاریخ احمدیت (جلد 7)

by Other Authors

Page 16 of 742

تاریخ احمدیت (جلد 7) — Page 16

حالات میں تغیر کیلئے میں ان آٹھ قربانیوں کا مطالبہ کرتا ہوں ے سے دوسرا مطالبہ دوسرا مطالبہ جو دراصل پہلے ہی مطالبہ پرمینی ہے یہ کرتا ہوں کہ جماعت کے مخلص افراد کی ایک جماعت ایسی نکلے جو اپنی آمد کالا سے یا حصہ تک سلسلہ کے مفاد کے لئے تین سال محمد بیت المال میں ہم جمع کرائے۔اس کی صورت یہ ہو کہ جس قدر وہ مختلف چندوں میں دیتے ہیں یا دوسرے ثواب کے کاموں پر خروج کرتے ہیں یا دارالانوار کمیٹی کا حصہ یا حصے انہوں نے لئے ہیں (اختبارات وغیرہ کی قیمتوں کے علاوہ ) وہ سب رقم اس حصہ میں سے کاٹ لیں اور باقی رقم اس تحریک کی امانت میں صدر انجین احمدیہ کے پاس جمع کرا دیں۔یہ ضروری شرط ہے کہ آنے اس میں نہیں لئے جائیں گے۔۔۔تین سال کے بعد بید و پیہ نقد یا اتنی ہی جائداد کی صورت میں واپس کر دیا جائے گا جو کھیٹی میں اس رقم کی حفاظت کے لئے مقرر کروں گا اس کا قرض ہوگا کہ شخص پر ثابت کرے کہ اگر کسی کو جائداد کی صورت میں روپیہ واپس کیا جارہا ہے تو وہ بجا مداد فی الواقعہ اس رقم میں خرید کی گئی ہے۔اس سب کمیٹی کے ممبر علاوہ میرے مندرجہ ذیل احباب ہوں گے (1) میرزا بشیر احمد صاحب (۲) چودھری ظفر اللہ خاں صاحب (۳) شیخ عبد الرحمن صاحب مصری (۴) مرزا حمد اشرف صاحب (۵) مرزا شریف احمد صاحب (4) ملک غلام محمد صاحب لاہور (۷) چودھری محمد شریف صاحب وکیل منتشگری (۸) چہدری محاکم علی صاحب سرگودھا اور چودھری فتح محمد صاحب میرا مطالبہ تیر امطالبہ میں یہ کرتا ہوں کہ دشمن کے مقابلہ کے لئے اس وقت بڑی ضرورت ہے کہ وہ جو گندہ لٹریچر ہمارے مقلات شائع کر رہا ہے اس کا جواب دیا جائے یا اپنا نقطہ نگاہ احسن خور پر لوگوں تک پہنچایا جائے اور وہ روکیں جو ہماری ترقی کی راہ میں پیدا کی بھارہی ہیں انہیں دور کیا جائے۔اس کے لئے بھی خاص نظام کی ضرورت ہے، روپیہ کی ضرورت ہے ، آدمیوں کی ضرورت ہے اور کام کرنے کے له الفضل " ۲۹ نومبر در صفحه ۱۰ تا صفحه ۱۲ ء اس جگہ یہ بتانا ضروری ہے کہ حضور نے ان آٹھ قربانیوں کی نسبت ساتھ ہی یہ وصیت بھی فرما دی کہ ”جہاں یہ باتیں دوسرے گھروں کے لئے اختیاری ہیں وہاں ہمارے اپنے گھروں میں لازمی ہوں گی۔قرآن کریم میں حکم ہے یا ایھا النبي قل لأزواجك ان كنتن تردن الحيوة الدنيا الآیت۔پس اس حکم کے ماتحت ایک نبی کا خلیفہ ہونے کی حیثیت سے میں بھی اپنے بیوی بچوں کے لئے ان باتوں کو لازمی قرار دیتا ہوں " سے اس چندہ کا نام امانت تحریک جائداد رکھا گیا۔"الفضل در امور کے افضل ۲۹ نومبر ۱۳۶ در سن ۱۲-۰۱۳ اس سب کمیٹی نے فروری ام میں کام شروع کر دیا حتی مورای فخرالدین صاحب پیشتر متوطن گھوگھیٹ ضلع شاہ پور اس کے سیکرٹری مقرر ہوئے وافضل و یکی است کالم )