تاریخ احمدیت (جلد 7) — Page 15
جماعت کو حکم دیتا ہوں کہ تین سال تک کوئی احمدی کسی سنیما، سرکس تھیٹر وغیرہ غرض کہ کسی تماشہ میں بالکل نہ جائے۔۔۔۔چھٹا شادی بیاہ کا معاملہ ہے۔چونکہ یہ جذبات کا سوال ہے اور حالات کا سوال ہے اس لئے میں یہی بندی تو نہیں کر سکتا کہ اتنے جوڑے اور اتنے زیور سے زیادہ نہ ہوں۔ہاں وہ اتنا مد نظر ر ہے کہ تین سال کے عرصہ میں یہ چیزیں کم دی جائیں ہوشخص اپنی لڑکی کو زیادہ دینا چاہیے و کچھ زیور کپڑا اور باقی نقد کی صورت میں دے دے۔ساتواں مکانوں کی آرایش و زیبائش کا سوال ہے اس کے متعلق بھی کوئی طریق میرے ذہن میں نہیں آیا۔ہاں عام حالات میں تبدیلی کے ساتھ اس میں خود بخود تبدیلی ہوسکتی ہے جب غذا اور لباس سادہ ہوگا تو اس میں بھی خود بخود لوگ کسی کرنے لگ جائیں گے پس میں اس عام نصیحت کے ساتھ کہ جو لوگ اس معاہدے میں شامل ہوں وہ آرایش و زیبائش پر خواہ خوان روپیہ ضائع نہ کریں، اس بات کو چھوڑتا ہوں۔۔۔۔ہسٹھویں چیز تعلیمی اخراجات ہیں۔اس کے متعلق کھانے پینے میں جو خرچ ہوتا ہے ، اس کا ذکر میں پہلے کر آیا ہوں۔جو خرچ اس کے علاوہ ہیں یعنی فیس یا آلات اور اوزاروں یا سٹیشنری اور کتابوں وغیرہ پر جو خرچ ہوتا ہے، اس میں کمی کرنا ہمارے لئے مضر ہو گا۔اس لئے نہ تو اس میں کمی کی نصیحت کرتا ہوں اور نہ ہی اس کی گنجائش ہے۔پیپس عام اقتصادی عہ یہاں یہ بتانا بھی ضروری ہے کہ سادہ زندگی کی اس سکیم کا سب سے زیادہ اثر براہ راست قادیان کے دوکاندار پر پڑنے والا تھا۔اس لئے حضور نے حسب ذیل تجاویز فرمائیں۔(1) قادیان کے احمدی جہاں تک ہو سکے یہاں کے دکانداروں ہی سے سودا سلف خریدیں اور دکاندار زیادہ بکری پر تصویری منافع کا اصول پیش نظر رکھیں اور سمتنا سود ا خریدنے کی کوشش کیا کریں۔(۲) بیرونی احمدی جو جلسہ سالانہ یا مجلس شوری پر آتے ہیں وہ بھی اگر ایسی چیزیں جو آسانی سے ساتھ لیجاسکیں یہاں سے خرید لیں یا کپڑے وغیرہ یہاں سے بنوالیا کریں تو قادیان کے دکانداروں کی بکری زیادہ ہوسکتی ہے۔اس ضمن میں حضور نے خاص طور پر چوہدری نصراللہ خان صاحب کی مثال دیتے ہوئے فرمایا۔چوہدری نصر اللہ خان صاحب مرحوم کئی دفعہ اپنے کپڑے یہاں سے بنوایا کرتے تھے کسی نے اُن سے کہا کہ آپ بہتے سیالکوٹ میں ہیں اور کپڑے یہاں سے بنواتے ہیں یہ کیا بات ہے، تو انہوں نے جواب دیا کہ اس سے دوہرا ثواب مجھے بہل جاتا ہے۔اس سے قادیان میں روپیہ کے چلن میں زیادتی ہو جاتی ہے اور بھائی کو فائدہ بھی پہنچ جاتا ہے۔میں سمجھتا ہوں۔اگر چودھری صاحب جرم کے نقش قدم پر چلنے والے چند سود دوست بھی پیدا ہو جائیں تو قادیان کے دکانداروں کا نقصان ہی دور نہیں ہو سکتا بلکہ انہیں فائدہ بھی پہنچ سکتا ہے" (الفصل ۱ دسمبر تا ۳ صفحه (۵) لے جیسا کہ آمد مفصل ذکر آرہا ہے حضور نے بعد کو سنیما کی مستقل ممانعت فرما دی اور ارشاد فرمایا کہ " میں سمجھتا ہوں کہ میرا منع کرنا تو انگ رہا اگر میں ممانعت نہ کروں تو بھی مومن کی روح کو خود بخود اس کی بغاوت کرنی چاہیئے" (الفصل ۱۴ دسمبر و صفحه کالم ۳)