تاریخ احمدیت (جلد 7) — Page 333
۳۲۰ ہمارے دوست نے کہا کہ تلاش تو کرو کہ وہ چیز ہو گری ہے کیا اور کہاں ہے ؟ اس وقت تک سب لوگ اسے یقینی طور پر پتھر سمجھ رہے تھے۔اور مجھے بھی اس وقت تک یہ خیال نہیں آیا تھا کہ اگر پتھر ہوتا تو نشان چھت پر لگ جاتا۔اس لئے غالباً یہ کوئی اور شئے ہے۔گو بعض صورتوں میں نشان نہیں بھی ہو سکتا لیکن تو میں سے ننانوے دفعہ پتھر کا نشان ہونا چاہئیے ، اس لئے میں نے بھی اُس دوست کی تائید کی۔ا اور کہا کہ اس چیز کو تلاش کرو۔مگر چونکہ مغرب کا وقت ہو چکا تھا۔اس لئے ایک آدھ منٹ کے بعد ہی میں نے کہہ دیا کہ اب چلو۔ہاں ایک بات گئی جو یہ کہ میرے پیچھے جو سائیکلسٹ آرہے تھے۔اُن سے جب میں نے دریافت کیا کہ تم کو معلوم ہے وہ چیز کس طرف سے آئی تھی تو انہوں نے دائیں طرف سے اس کا آنا بتا یاد یعنی شمال سے آتے ہوئے جو دائیں طرف سے یعنی مغرب کی سمت۔ہم جو موٹر میں تھے۔دھما کے سے ہمارا بھی یہی اندازہ تھا کہ وہ چیز شمال مغربی سمت سے آگری ہے۔اسکی تصدیق سائیکلسٹوں نے بھی کی جنہوں نے یہ بیان کیا کہ انہوں نے خود ادھر سے ایک چیز آتی ہوئی دیکھی ہے جسے وہ ایک ہاتھ کے برابر پتھر سمجھتے تھے۔جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے۔چونکہ مغرب کا وقت ہو گیا تھا۔میں دوستوں کو ساتھ لے کر موٹر میں سوار ہو گیا اور مزید تحقیق ترک کر دی گئی میری غرض وہاں ٹھہرنے سے صرف اتنی تھی کہ اگر کوئی شخص ایسا پایا جائے تو ہمیں علم ہو جائے کہ وہ کون شخص ہے اور دوسرے نہیں اُسے نصیحت بھی کروں کہ ایسی فضول باتوں سے کچھ فائدہ نہیں ہوسکتا۔اس قسم کے واقعات در حقیقت انبیاء کی جماعتوں سے ہونے لازمی ہیں اور ہوتے رہتے ہیں۔۔۔۔اُسی دن کا جس دن یہ وقوعہ ہوا۔یہ بھی واقعہ ہے جس کی رپورٹ مجھے پہنچی کہ وہی صنیف " جس نے میاں شریف احمد صاحب پر لاٹھی سے وار کیا تھا۔اس سے ایک گھنٹہ یا ڈیڑھ گھنٹہ پہلے ایک شخص نے معانقہ کیا۔اور میاں شریف احمد صاحب پر حملہ کے واقعہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا۔آپ نے نہایت اعلیٰ کام کیا ہے۔سب مسلمان آپ کو غازی سمجھتے ہیں۔اس واقعہ کو اگر موٹر کے وقوعہ سے ملایا جائے تو صاف پتہ چلتا ہے کہ بعض لوگ ایسی حرکت کے لئے دوسروں کو تیار کرنے کی کوششیں کر رہے تھے۔کیونکہ جب ایسے کاموں کی تعریف کی بجائے اور کہا جائے۔کہ آپ تو اس کام کی وجہ سے غازی بن گئے ہیں۔توکئی نوجوانوں کو خیال آ جاتا ہے کہ ہم بھی غازی بنے کی کوشش کریں۔وہ یہ نہیں سمجھتے کہ پہلا غازی تو چھپتا پھرتا تھا اور پھر پولیس اسکی نگرانی کرتی رہی