تاریخ احمدیت (جلد 7) — Page 11
مالی قربانی کی طرح جانی قربانی کا بھی یہی حال ہے جسم کو تکلیف پہنچانا کس طرح ہو سکتا ہے جب تک اُس کے لئے عادت نہ ڈالی جائے جو مائیں اپنے بچوں کو وقت پر نہیں جگائیں۔وقت پر پڑھنے کے لئے نہیں بیچتیں ان کے کھانے پینے میں ایسی احتیاط نہیں کرتیں کہ وہ آرام طلب اور عیاش نہ ہو جائیں وہ قربانی کیا کر سکتے ہیں عادتیں جو بچپن میں پیدا ہو جائیں وہ نہیں چھوٹتیں۔اس میں شک نہیں کہ وہ بہت بڑے ایمان سے ذب بھاتی ہیں۔مگر جب ایمان میں ذرا بھی کمی آئے پھر عود کر آتی ہیں۔پس بھائی قربانی بھی اس وقت تک نہیں ہو سکتی۔جب تک عورتیں اور بیچتے ہمارے ساتھ متحد نہ ہوں۔جب تک مائیں متحد نہیں ہوں گی تو وہ روز ایسے کام کریں گی جن سے بچوں میں شکستی اور غفلت پیدا ہو۔پس جب تک مناسب ماحول پیدا نہ ہو کوئی فائدہ نہیں ہو سکتا اسے فصل دوم تحریک جدید کے انمیش مطالبات ور ملکی پریس اب تمہیدی اور چونکہ بیان کئے جاچکے تھے۔اس لئے حضور نے ۱۲۳ نومبر ۳۰, نومبر اور دسمبر ہ کے تین خطبات میں اپنی سکیم تفصیلی طور پر جماعت کے سامنے رکھی اور اُسے در سمیرہ کے ایک مطبوعہ اعلان میں تحریک جدید کے نام سے موسوم فرمایا۔شد انیش مطالبات حضرت امیر المومنين رض " تحریک جدید کی سکیم انمیں مطالبات پر مشتمل تھی۔جن کی تشریح و توضیح ذیل میں خود سیدنا امیر المومنین خلیفہ السیح الثانی رضی اللہ عنہ کے اپنے الفاظ میں کے الفاظ مبارکہ میں درج کی جاتی ہے :۔پہلا مطالبہ " آج سے تین سال کے لئے۔۔ہر احمدی جو اس جنگ میں ہمارے ساتھ شامل ہونا چا ہے یہ اقرار کرے کہ وہ آج سے صرف ایک سائن استعمال کرے گا۔روٹی اور سالن یا چاول اور سالن یہ دو چیزیں سے افضل " ۱۷ دسمبر ۱۹۳۲ صفحه ۱ * له الفضل ۲۹ نومبر ۱۹۳۳ و صفحه ۵۰۴ ۰ عہ حضرت فضل عمرہ کی یہ تحریک میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے زمانہ میں بھی ملتی ہے۔چنانچہ حضرت ابو الحسن علی بن محمد بن عبد الكريم الجزری رامین بشیری نے اسد الغابہ میں حضرت عمر کے حالات میں یہ واقعہ لکھا ہے: " عن ابى حازم قال دخل عمر بن الخطاب على حفصة ابنته فقدمت اليه مزقاً بارها وصبت في المرق زيتا فقال أدمان في إناء واحد لا أذوقه حتى القى الله عز وجل (جلد چهارم صل (مصری)۔دیقیہ اگلے صفحہ پر )