تاریخ احمدیت (جلد 7)

by Other Authors

Page 276 of 742

تاریخ احمدیت (جلد 7) — Page 276

۲۶۳ ڈاکٹر احمد آف انڈیا کے نام سے شائع ہوتا رہا۔اخبار ہندوستان ٹائمز میں میرا نوٹ بھی چھپا تھا۔اور قادیان کا نام بھی۔ہندوستان کی طرف سے صرف خاکسار ہی ایک ڈاکٹر تھا۔جو ملک حبشہ میں جنگ کے دوران کام کے لئے بھیجا گیا۔اسے سیفیا کا بادشاہ ہیلی سلاسی یکم مئی شاہ کو فرار ہوکر انگلستان چلا گیا۔اٹلی کے ملک حبشہ پر قبضہ کرنے پر مزید 4 ماہ خاکسار وہاں مقیم رہ کر ادیس ابابا کی مساجد میں تبلیغ کرتا رہا۔مساجد میں جمعہ کے روز خاکسار لکچھ کرتا اور پیغام احمدیت و اسلام عربی زبان میں پہنچاتا۔بسا اوقات خاکسار کو مساجد ہی سے بزور نکال باہرکیا جاتا رہا۔ایک فاضل رکن جامعہ الازہر شیخ محمد بریلوی مصری جو حکومت مصر کی طرف سے عدلیں ابا با جامعہ میں مقرر تھا۔چند روب کے بحث مباحثہ کے بعد اور میرے کہنے پر استخارہ کرنے کے بعد حضرت امیر المومنین ایدہ اللہ کی بیعت تحریری سے مشرف ہوا۔اُس نے خواب میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم مسیح موعود کو رگرسیوں پر بیٹھے دیکھا اور سول کریم کواپنی طرف مخاطب ہوکرشنا کہ مسیح موعود کو قبول کر لو۔اس دوران میں السید عبدالحمید ابراہیم مصری (جو جامعہ الازہر کے فارغ التحصیل ہیں) کے ساتھ مقابلہ ہوتا۔تو شیخ محمد بریلوی صاحب مجھے بلا لیا کرتے تھے۔خطبہ الہامیہ میری طرف سے دئے بجانے پر انہوں نے بھی دعویٰ مسیح موعود کو قبول کر لیا۔۱۹۳۶ء کے بعد ۱۹۳۶ء میں مصر بجا کر بیعت کا خط مولوی محمد سلیم صاحب کو لکھ دیا۔اور داخل جماعت احمدیہ ہو گئے ؟ نیز اسید عبدالحمید بعد میں قادیان اور ربوہ آکر حضرت صاحب کی ملاقا سے مشرف ہوئے۔- ستمبر انہیں خاکسار ایسے سینیا سے چلا گیا اور فلسطین اور مصر و شام کے ممالک میں تبلیغ ۱۹۳۷ اور سیاحت اور پریکٹس کیلئے چلا گیا۔چند ماہ وہاں رہ کر پھر اس لاء میں حضرت امیر المؤمنین ایدہ اللہ تعالیٰ نے مجھے کینیا جانے کیلئے ارشاد فرما یا کہ وہاں جاکر میڈیکل سروس میں داخل ہو جاؤں سو ۱۹۳۹ ۶ ایک خاکسار وہاں رہا۔ائیر میں خاکسار کو حاجیوں کے پہاز ایس ایس رحمانی ہیں میڈیکل آفیسر مقررکیا گیا۔بھئی۔جدہ - کراچی وغیرہ کئی بار آنا جانا پڑا۔حج کرنے کا بھی موقعہ اللہ تعہ نے اپنے فضل سے عنایت کیا۔عربی میں مہارت کافی ہوگئی۔مکہ معظمہ میں اور عرفات، منی ، مزدلفہ کہ معظمہ جدہ۔غرضیکہ ہر جگہ عربوں اور دیگر علماء کو تبلیغ کرنے کا موقعہ بہ کثرت ملتا رہا۔اور علاج معالجہ