تاریخ احمدیت (جلد 7) — Page 275
اپنے خرچ پر ابی سینیا گئے۔اور اپنی جان کو جوکھوں میں ڈال کر انسانی ہمدردی اور خدمت خلق کا بہترین ثبوت دیا۔اور ایک لمبا عرصہ تک نہ صرف طبی بلکہ تبلیغی خدمات بھی بجا لایا ہے۔چنانچہ ذیل میں ڈاکٹر صاحب ہی کے تے الفاظ میں اُن کے زمانہ قیام کی تفصیلات درج کی جاتی ہیں۔آپ تحریر فرماتے ہیں کہ :- حضرت امیرالمؤمنین ایدہ اللہ تعالیٰ نے خاکسار کو تحریک جدید کے ماتحت وقف کرنے پر علی گڑھ خط لکھا کہ ابی بنیاد حبشہ ہیں جاکر طبی خدمات سرانجام دینے اور تبلیغ کرنے کے لئے روانہ ہو جائیں۔اگست ۱۹۳۵ ء میں خاکسار قادیان پہنچ کر حضور سے فیضیاب ملاقات ہوا۔حضور کے ضروری ارشاد گرامی یہ تھے۔ریڈ کراس ہسپتالوں میں جو جنگ کے میدان میں ابی سینیا میں کام کر رہے ہیں اپنے آپ کو پیش کریں۔رسول کریمصلی اللہ علیہ کے زمانہ میں صحابہ کرام کی ہر ایسے مینیا کے ملک میں ہوئی تھی۔اہل حبشہ کے آباؤ اجداد کے اس نیک سلوک کیوجہ سے عالم اسلامی انکا ممنون رہا ہے۔اس کے عوض ہمیں اس مصیبت کے وقت اُن کے بیمار اور زخمیوں کی مدد کرنی چاہیئے۔۱- خاکسار عادیس ابابا اپنے خرچ پر پہنچا۔خاکسار کی بیوی بھی حضور سے خط لکھوا کر میرے نام لے آئیں کہ آپ کی اہلیہ ساتھ جانا چاہتی ہیں انکو ساتھ لے جائیں۔اگر جنگ شروع ہو جائے اور یہ سنا تھا نہ جا سکیں تو انہیں سمالی لینڈ یا عدن رہنے کا انتظام کرا دیں سو ایسا ہی کیا گیا۔جنگ شروع ہوئی۔اٹلی کے فوجیوں کے ہوائی حملوں سے بے اندازہ نقصان جانی و مالی ہوا۔مسٹرڈ گیس MUSTARD GAS پھینکی گئی۔گولہ باری کے ذریعہ بیدردی سے جانیں تلف کی گئیں۔خاکسار عین میدان شمالی محاذ پر متعین تھا۔روزانہ کئی سو زخمیوں کی مرسیم پٹی کرنا پڑتی تھی۔دیکھتے دیکھتے جائیں تلف ہوتی تھیں۔قیامت کا منظر سامنے تھا۔قرآن کریم کی پیشنگوئیاں اور حضرت مسیح موعود علیہ اسلام کی پیشنگوئیاں فوج میں بیان کرکے واضح کیا جاتا رہا کہ مسیح موعود کا ظہور ہو چکا اور سچائی ثابت ہو چکی ہے۔لوگوں کو اس طرف توجہ کرنی چاہیئے۔۱۹۳۵۳۶ء میں جنگ جاری رہی۔عالمی ریڈ کراس سوسائٹی INTERNATIONAL کی طرحت سے اخباروں میں خاکسار کا نام RED Cross, Society) الفضل و راکتوبر ۱۹۳۵ء صدا کالم ۲ - ہے اس ضمن میں ڈاکٹر صاحب کی ایک رپورٹ مطبوعہ افضل وار مئی راہ میں قابل مطالعہ ہے۔