تاریخ احمدیت (جلد 7)

by Other Authors

Page 271 of 742

تاریخ احمدیت (جلد 7) — Page 271

۲۵۸ مولوی عناصہ بنے اہلحدیث کی ایک اور اشاعت میں یہ نوٹ دیا کہ : " قادیان می اہلہ اور ان کے متعلق ہم نے اپنی رائے محفوظ رکھی تھی آج ہم اسے ظاہر کرتے ہیں ہم دیکھتے تھے کہ جو شرطیں قادیانیوں نے پیش کی تھیں وہ تو معمولی تھیں۔ان کے علاوہ بعض اور شروط ضروری تھیں جو احرار کی طرف سے ہونی چاہیئے تھیں " اے احرار کا احتجاجا جمعہ اتار نے کس طرح میدان ساہل سے فرار اختیار کیا؟ اس کی تفصیل تو بیان ہوچکی مباہلہ ہے۔گز بالآخر یہ بتانا بھی ضروری ہے کہ حکومت نے جب محض امن عامہ کے نہ پڑھنے کا اعلان خیال سے جمعہ کے اجتماع پر احراری لیڈروں کے قادیان جانے پر پابندی لگا ولی تو اتار نے اس سرکاری نوٹس کی بناء پر اعلان کر دیا کہ وہ نمازہ جمعہ اور ہی نہیں کریں گے اور ۲۲ نومبر ۱۹۳۶ء کو قادیان کی مسجد احرا میں نمازہ جمعہ نہیں پڑھی گئی۔اس عجیب و غریب احتجاج پر بھی کوی ثناء اللہ صاحب امرتسری نے ایک نوٹ شائع کیا جو لائق مطالعہ ہے۔آپ نے لکھا:۔شہر امرتسر میں عام طور پر شہرت ہے کہ قادیان کے مسلمانوں کو نماز جمعہ ( صور و ۲۲ تن میرا ادا کر نے سے حکومت نے روک دیا ہے۔ہم نے اشتہار مندرجہ پر چہ ہذا عصفور(1) قادیان میں تقسیم کرنے کو دوادمی بھیجے تھے انہوں نے اسی روز واپس اگر بتایا کہ اسلامی مسجد میں نماز جمعہ پڑھنے کو اس قدر لوگ آئے ہوئے تھے کہ ان کی تعداد مرزائیوں کی نسبت بہت زیادہ تھی۔پولیس کا انتظام کافی تھا کسی نے نماز جمعہ پڑھنے سے منع نہیں کیا۔صرف مولوی عنایت اللہ صاحب امام مسجد نے چند کلمات شکایت متعلقہ حکومت کہکر اعلان کر دیا کہ چونکہ ہمارے بزرگ خصوصا امیر شریعیت کو قادیان میں آنے سے روکا گیا ہے۔اس لئے ہم بطور احتجاج نماز جمعہ نہیں پڑھتے تم لوگ (حاضرین) اکیلے اکیلے نماز ظہر پڑھ لو۔چنانچہ سب نے اپنی اپنی نماز ظہر پڑھ لی۔مذہبی تعلیم کے لحاظ سے یہ واقع ہم نے تعجب سے سُنار ہمیں شبہ ہوا کہ ہمارے مخبروں کو شاید حقیقت حالی کا علم نہ ہوا ہو۔ہم اسی شش و پنج میں تھے کہ احرامہ کا اخبار مجاہد مور خر۲۴ نومبر دیکھنے میں آیا تو اس میں بھی مندرجہ ذیل اقتباس ملا : - حسب دستور مسلمان اپنی مسجد میں جمع ہوئے مگر آج پیش آمدہ حالات کی بناء پر بالاتفاق یہ قراہ پایا کہ حکومت کی منشہ ورانہ پالیسی نے چوٹو نماز جمعہ کیلئے اس کی شرط کو معقود کر دیا۔اسلئے فریضہ جمعہ ادا نہیں ہو سکتا۔چنانچہ ہر ایک مسلمان نے علیحدہ علیحدہ نماز ظہر • ے۔اہلحدیث ۳ اردو نمبر ۱۹۳۵ مورد بحث کا لم ۲ ہے