تاریخ احمدیت (جلد 7)

by Other Authors

Page 270 of 742

تاریخ احمدیت (جلد 7) — Page 270

۲۵۷ کانفرنس منعقد کی جائے۔سر دست اُس کا مقصد وحید یہ ہے کہ نماز جمعہ قادیان میں ادا کی جائے جس کے بعد دہ پر امن طریق سے واپس ہو جائیں گے۔ہاں اگر احرار کو پھر مباہلہ کی دعوت دیگئی اور اسکے متعلق فریقین نے شرائط طے کر لیں تو اس صورت میں میال بھی کر لیا جائیگا یہ مگر حکومت پنجا نے جمعہ کو روکنے کیلئے نہیں بلکہ فساد سے بچنے کیلئے دو ٹوک جواب دیا کہ مجوزہ صورت میں بھی امن عامہ میں خلل واقع ہونے کا اندیشہ ہے۔اس لئے حکومت اس اجتماع سے متعلق اپنی پالیسی تبدیل نہیں کر سکتی ہے اجتماع کی ممانعت کے باعث اگرچہ احرابہ کے ارمان دلی ہی میں رہ گئے رکن داره اخبار احسان کو مگر انہوں نے مباہلہ سے چھٹکارا پا جانے پر سکھ کا سانس لیا اور وہ پیالہ کا ایک نوٹ سے دو ٹانے کیلئے عجیب غریب عذرات کا سہارا لیتے رہے تھے حکومت پنجاب کی مہربانی سے مل گیا۔پہچ ہے جان بھی لاکھوں پائے۔اخبار احسان لاہور کے ادارہ تحریر کے ایک رکن ابو العلاء صاحب چشتی نے احرار کی باطنی کیفیت کا نقشہ بڑے جامع الفاظ میں کھنچا تھا انہوں نے لکھا : میں مرزا بشیرالدین محمود نہیں جیسے مباہلہ کرنے کا نام شنکر رہنمایا یا احرار کے ** بدن پر رعشہ طاری ہو جاتا ہے۔" مولوی ثناء اللہ صاحب عالم الحدیث جناب مولوی ثناء اللہ صاحب امرتسری نے بھی اپنے اخبار اہلحدیث میں احرار کے طرز عمل پر ایک نہایت دلچسپ تبصرہ کیا تھا۔جو امرتسری کا دلچسپ تبصرہ انہی کے الفاظ میں سرچ کی جاتا ہے :- حراری اب کھلے لفظوں میں کہتے ہیں کہ قادیانی گزرہ کے ساتھ مسائل کا فیصلہ علماء کی طرف سے ہو چکا ہمارا مقابلہ اُن کے ساتھ سیاسی رنگ میں ہے۔۔۔۔۔۔پس احرار اور قادیان کا اختلاف بالکل ایسا ہی ہے۔جیسا کہ مسلم لیگ اور ہندو مہا سبھا کا ہے۔اسلئے تحسب اصول تقسیم کار اوزار کو دوسری تبلیغی انجمنوں کو اپنا کام ممتاز کر لینا چاہیے یعنی معقولی مباحثے اور مباہلے دوسری انجمنوں اور اشخاص کے سپرد کر دیں۔احرار ان باتوں میں دخل نہ دیں جیسے مسلم لیگ کے مبر ہندوؤں سے تناسخ وغیرہ مضامین پر بحث نہیں کرتے مگر ہم دیکھتے ہیں کہ احترامہ اہل قادیان کے دھوکے میں آ جاتے ہیں اگر ایسا نہ ہوتا تو مباہلے کی دعوت قبول نہ کرتے۔خیر گذشته را صلواۃ آئندہ را احتیاط سے - الفصل ا تو میرا من له - احسان یکم نومبر الہ (حواله الفضل ، نومبر لاء مران الحديث امرتسر ۱۲۹ نومبر ۱۹۳۵ ۱۳۰ :