تاریخ احمدیت (جلد 7) — Page 263
۲۵۰ گنجائش باقی نہ رہی۔تاہم حضرت امیرالمومنین شرایط مساجد کے تصفیہ کا معاملہ فی الفور کے کرنے کیلئے اپنی طرف ناظر و قوت و تبلیغ کو سند نمائندگی کھدی۔چنانچہ لکھا :- ماعي " مکرمی ناظر صاحب دعوت و تبلیغ السلام علیکم ورحمته اله و برکان۔۔۔آپ میری طرف سے اس غرض کیلئے نمائندے ہیں۔آپ جلد سے جلد احرار کے نائندہ سے را کے کرکے باہر کی تاریخ کا اعلانکی دین اسلام خاکسار مرز امحمود احمد خلیفة المسیح الثانی به یہ سند ناظر صاحب دعوت و تبلیغ نے سر نومبر کو سکوٹری صاحب مجلس احرار کو بھی بھجوا دی اور ساتھ ہی اُن کے نام مفصل سمیٹی تھی جب کے آخرمیں تحریر کیا کہ - اگر آپ سبابہ سے گریز نہیں کہ رہے اور سنجیدگی سے مباہلہ کرنے کے خواہاں ہیں تو آپ وقت اور مقام مقرر کر کے مجھے اطلاع دیں جہاں پر میں آپ سے شرائط کے کرنے کیلئے حاضر ہو جاؤں اور پھر شرائط ضبط تحریر میں لا کہ اس پر فریقین کے نمائندوں کے دستخط ہو جائیں اور پھر متفقہ طور پر مباہلہ کے انعقاد کی تاریخ مقرر کر کے اعلان کر دیا جائے " ہے اقرار کی طرف سے تحریف ور مباہلہ کے اس خط کے جواب می می سارا نے اپنے گذشتہ رویہ اس مجلس کو اور بھی ناخوش گوار بنالیا اور بجائے صحیح طریق اختیار کرنے کے تحریف سے کام لینا شروع کر دیا چنانچہ مٹر مظہر کی ام قادیان میں ہنگامہ کھنکار کر صاحب اظہر (جنرل سیکوری ایران نے چنیوٹ ضلع جھنگ نہیں بیان کیا کہ میں نے قادیان جاکر کہا تھا کہ مبابطہ قادیان میں ہونا چاہیئے اور مرزا صاحب کی صداقت پر ہونا چاہیئے۔اور مرزا محمد نے تسلیم کردیا ہے؟ اسی طرح سید فیض الحسن صاحب سجادہ نشیں آلو مہار صدر مجلس احرار پنچا اپنے بھی اپنی تقریر مینوٹ میں کہا کہ مرزا محمود نے مجلس احرار کو چیلنج دیا ہے کہ آؤ مجھ سے مزنہ ا کی نبوت پر قادیان آگرہ مباہلہ کرو زعمائے احمرار نے مرزا محمود کے اس چیلنج کو قبول کر لیا ہے " ہے ظاہر ہے کہ یہ دونوں بیانات واقعہ کے صریحا خلاف اور غلط بیانیوں پر مبنی تھے۔کیونکہ ۱- حضرت خلیفہ ایسیح الثانی نے چیلنج اس امر کا دیا تھا کہ وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی - الفضل در نومبر ۹۳۵ مرد صب : - اور در له الفضل ۱۷ نومبر ۱۹۳۵ در ۲ : اختبار مجاہد " (لاہور 4 نومبر ۱۱۳ دمت بحوالہ الفصل ۱ نومبر ۳۵ درصد کالم ہے