تاریخ احمدیت (جلد 7) — Page 256
۲۴۳ " اور پھر قسم کھا کر کہیں گے کہ ان سے اگر رسول کریم صلی الہ علیہ والہ وسلم کی بہنک ثابت نہیں ہو تی تو ان پیر عذاب ناندل ہے۔حضرت امیر المومنین نے اس مطالبہ کی معقولیت کو تسلیم کرتے ہوئے فرمایا :- میرے نزدیک یہ بالکل درست بات ہے اور ان کا حق ہے کہ وہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوة والسلام کی اس قسم کی تحریریں پڑھیں۔بیس پچیس منٹ میں وہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی ایسی تحریرات پڑھ سکتے ہیں جن سے ان کے خیال میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہتک ثابت ہوتی ہے۔ہم بیس پچیس منٹ میں ان تحریروں کا جواب دیدیں گے یا ایسی تحریریں پڑھ دیں گے جن سے ان کی پیش کردہ تحریروں کی تشریح ہوتی ہو۔پس یہ ان کا حق ہے جسے ہم تسلیم کرتے ہیں۔وہ اپنی تحریریں کو سامنے رکھ کر مگر ان کے سیاق و سباق کو ساتھ مل کر مؤکد بعذاب قسم کھا سکتے ہیں۔مگر یہ ضروری ہے کہ تحریریں صرف حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام کی ہوں کسی اور احمدی کی نہ ہوں۔کیونکہ اور احمدیوں سے بعض دفعہ غلطی بھی ہو جاتی ہے اور پھر ان غلطیوں کی اصلاح بھی ہو جاتی ہے لیکن ہر حال دوسروں کی تحریہ محبت نہیں ہو سکتی صرف وہی تحریریں پیش ہونی چاہئیں جو حضرت میسج موعود علیہ السلام کی ذاتی ہوں۔کیونکہ ان کے متعلق ایک لحظہ کے لئے بھی ہمیں یہ خیال نہیں آسکتا کہ انمیں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ی بنک کی گئی ہے۔ہم نے حضرت میں موعود علیہ الصلوة داستام کی باتیں خود اپنے کانوں سے سنیں۔آپ کے طریق عمل کو اپنی آنکھوں سے دیکھا اور آپ کی پاکیزہ زندگی کا روز و شب مشاہدہ کیا۔پس حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی تحریرات پڑھی جائیں۔یا نہ پڑھی جائیں۔ہم تو ہر تحریر کو مد نظر رکھتے ہوئے ملک حضرت سیح موعود علیہ اسلام کے ان خیالات کو مد نظر رکھتے ہوئے جن کو ظاہر ہونے کا موقعہ نہیں ملا ہر وقت قسم کھانے کیلئے تیار ہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ و السلام نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی توہین نہیں کی۔بھلا ان آنکھوں سے دیکھنے کے بعد بھی کوئی شہ رہ سکتا ہے۔منشی روڑے خان صاحب جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے مشہور صحابی گذر ہے ی کپور تھل میں تیار تھے۔ایک دو کا ذکر ہے مولوی شا اللہ اب کپور تھلہ یا کسی قریر کے مقام پر گئے توا کے دوست انہیں بھی مولوی صاحب کی تقریر سنانے لے گئے۔مولوی ثناء اللہ صاحب نے اپنی تقریر میں جب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام پر اعتراضات کئے تو منشی کوڑے خاں صاحب کے ساتھی بہت خوش ہوئے اور انہوں نے بعد میں انہیں کہا آپنے دیکھا مرزا صاحب پر کیسے کیسے اعتراض پڑتے ہیں منشی صاحب