تاریخ احمدیت (جلد 7) — Page 255
جماعت احمدیہ کی طرف سے جب احرار کو بار بار تصفیہ شرائط کر کے میدان مباہلہ میں آنے کیلئے شکارا گیا تو انہوں نے ماہرہ سے گریز کیلئے پہلا قدم یہ اٹھایا کہ حضرت خلیفہ اسیع کی واضح تصریحات کے با وجود ) ایک تو یہ مشہور کہ دیا کہ امام جماعت احمد یہ دوسرے احمدیوں کو تو پیش کرتے ہیں مگر خود مباہلہ کرنے پر آمادہ نہیں۔دوسرے یہ کہا کہ مباحثہ کے لئے قادیان کی بجائے لاہور یا گورداسپور کی تعیین کیوں کی جاتی ہے ؟ حضرت خلیفہ مسیح الثانی چونکہ احرار کو بھاگنے کا کوئی موقعہ نہیں دینا چاہتے تھے۔اس لئے حضور نے صاف لفظوں میں اعلان کر دیا کہ :۔مباہلہ میں شامل ہونے والا اول وجود میرا ہو گا اور رہے پہلا مخاطب میں اس دعوت مباہلہ کا اپنے آپ کو ہی سمجھتا ہوں اور نہ صرف میں خود مباہلہ میں شامل ہوں گا۔بلکہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی تمام بالغ اولاد جو آسانی سے جمع ہو سکتی ہے اس مباہلہ میں شام ہوگی۔پس اس معاملہ میں یہ کہنا کہ ہمیں اپنے آپ کو الگ رکھتا ہوں لوگوں کو دھوکہ و فریب میں مبتلا کرنا ہے۔میرا د جود سب سے مقدم ہے اور میں سب سے پہلے اس مباہلہ میں شامل ہوں گا یہ ہے۔باقی رہا قادیان میں مباہلہ کئے بجانے کا احراری مطالبہ تو حضور نے پوری فراخدلی سے یہ اجازت دے دی کہ :۔میرا اس میں کوئی حرج نہیں بے شک وہ قادیان اگر ہم سے مباہلہ کرلیں۔سکے بکہ یہ بھی فرمایا کہ۔اگر قادیان میں مباہلہ کرنے کا شوق ہو تو وہ خوشی سے قادیان تشریف لے آئیں بلکہ ہماری زیادہ خواہش یہ ہے کہ وہ ہمارے ہی مہمان نہیں ہم ان کی خدمت کہیں گے انہیں کھانا کھلائیں گے ان کے آرام اور سہولت کا خیال رکھیں گے اور پھر اُن کے سارے بوجھ اٹھا کہ انشاء اللہ ان سے مباہلہ بھی کریں گے " سے احرار لیڈروں کا مطالبہ احرار لیڈروں کا ایک مطالبہ یہ بھی تھاکہ وہ اپنی تقریر سالامیں حضرت کا اور اس کا جواب سیح موعود عليه الصلوۃ والسلام کی وہ تحریرات پڑھیں گے جن میں ان کے نزدیک رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ہتک کیگئی ہے۔ه الفضل و اکتوبر ٣ ٣٥ : نه ایضاحت کالم ہے سے ایضا حت کالم ۴ * / +