تاریخ احمدیت (جلد 7)

by Other Authors

Page 245 of 742

تاریخ احمدیت (جلد 7) — Page 245

۲۳۲ کیا فائدہ کہ اس قسم کا اعلان کر کے فساد پھیلایا جائے۔ہاں ہم آپ کو یقین دلاتے ہیں کہ گورنمنٹ انگریزی کا یہ ہرگز منشاء نہیں کہ عرب کو اپنے زیر اثر لائے۔کے پس ہم ہمیشہ ور کے معاملات میں دلچسپی لیتے ہیں۔جب ترک عرب پر حاکم تھے تو اس وقت ہم نے ترکوں کا ساتھ دیا۔جب شریف حسین حاکم ہو اتو لوگوں نے اس کی سخت مخالفت کی۔مگر ہم نے کہا اب فتنہ و فساد کو پھیلا نا مناسب نہیں ہیں شخص کو خدا نے حاکم بنا دیا ہے اس کی حکومت کو لینا چاہیے۔تاکہ عرب میں نت نئے فسادات کا رونما ہونا بند ہو جائے۔اس کے بعد ا تجدیوں نے حکومت سے لی تو با وجود اسکی کہ لوگوں نے شور مچایا کہ انہوں نے مجھے گرا دئے اور شعار کی بنک کی ہے اور باوجود اس کی ہمارے رسے بڑے دشمن المحدیث ہی ہیں پہلے سلطان این سعود کی تائید کی۔صرف اسلئے کہ مکہ مکرمہ میں روز روز کی لڑائیاں پسندیدہ نہیں حالانکہ وہاں ہمارےے آدمیوں کو دُکھ دیا گیا۔حج کیلئے احمدی گئے تو انہیں مارا پیٹا گیا۔مگر ہم نے اپنے حقوق کے لئے بھی اس لئے صدائے احتجاج کبھی بند نہیں کی کہ ہم نہیں چاہتے ان علاقوں میں فساد ہوں۔مجھے یا د ہے مولانامحمد علی صاحب جب مکہ مکرمہ کی مؤتمر سے واپس آئے تو وہ ابن سعود سے سخت نالاں تھے۔شملہ میں ایک دعوت کے موقع پر ہم سب اکٹھے ہوئے تو انہوں نے تین گھنٹے اس امر پر محیت جاری رکھی وہ بار بار میری طرف متوجہ ہوتے اور میں انہیں کہتا کہ مولانا آپ کتنے ہی ان کے فلم بیان کریں جب ایک شخص کو خدا تعالیٰ نے حجاز کا بادشاہ بنا دیا ہے تومیں تو یہی کہوں گا کہ ہم کی کوششیں اب اس امر پر صرف ہونی چاہئیں کہ مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کی گلیوں میں فساد اور لڑائی نہ ہو۔اور جو شورش اس وقت جاری ہے وہ دب جائے اور امن قائم ہو جائے تاکہ ان مقدس مقامات کے امن میں خلل واقع نہ ہو۔ابھی ایک عہد نامہ ایک انگریز کمپنی اور ابن سعود کے درمیان ہوا ہے۔سلطان ابن سعود ایک سمجھدار بادشاہ ہیں۔مگر لوجہ اسکی کہ وہ یورپین تاریخ سے اتنی واقفیت نہیں رکھتے۔وہ یورپین اصطلاحات کو صحیح طور پر نہیں سمجھتے۔ایک دفعہ پہلے جب وہ اٹلی سے معاہدہ کرنے لگے تو ایک شخص کو جو ان کے ملنے والوں میں سے تھے میں نے کہا کہ تم سے اگر ہو سکے تو میری طرف سے سلطان این بود که یہ پیغام پہنچا دیا کہ معاہدہ کرتے وقت بہت احتیاط سے کام لیں۔یورپین قوموں کی عادت ہے کہ وہ الفاظ نہایت نرم اختیار کرتی ہیں مگر ان کے مطالب شده مولانا محمد علی صاحب جو ہر مراد ہیں۔(ناقل)