تاریخ احمدیت (جلد 7) — Page 237
سندھ سے واپس قادیان تشریف لے جاتے ہوئے بین احمدی جماعتوں نے حضور کا استقبال کیا ان میں سے سلسلہ احمدیہ کے مطبوعہ ریکارڈ میں صرف جماعت احمدیہ ضلع ملتان کا ذکر ملتا ہے۔چنانچہ اخبار الفضل ۲۴ مئی ۱۹۳۵ء میں لکھا ہے :۔ار مئی بروز اتوار ایک بجے دن حضرت امیر المؤمنین خلیفہ المسیح انشانی ایدہ اللہ تعالیٰ کا علاقہ سندھ سے قادیان دارالامان کی واپسی پر ملتان سے گزر ہوا۔جماعت احمدیہ ملتان کے چھوٹے بڑے۔بچے بوڑھے اور جو ان تمام شوق زیارت کیلئے ملتان بچھاؤنی سٹیشن پر جمع تھے بعض بیرونی جماعتوں کے دوست بھی آئے ہوئے تھے۔اخوند محمد افضل خانصاحب پریزیڈنٹ انجمن احمدیہ ڈیرہ نماز یجان با وجود پیرانہ سالی اور علامت اور ضعف کے ایک روز پیشتر ہی آگئے تھے۔احمدی احبا کے علاوہ عمان کے ہندو۔عیسائی اور مسلم اکا بربھی شرف طاقات حاصل کرنے کیلئے کا فی تعداد میں جمع تھے۔ان میں اکثر وکلاء - پروفیسران تھے۔گاڑی ٹھیک وقت پر پہنچی اور حضرت امیر المومنین ایده ال تعالی پرنگاہ پڑتے ہی اللہ اکبر کے نعرے فضاء میں گونج اُٹھے۔حضرت خلیفتہ اسی الثانی از راہ شفقت گاڑی کے دروازہ میں آکر کھڑے ہو گئے جس رعب و تمکنت اور جلال کے ساتھ آپ رونق افروز ہوئے اسکی کیفیت صرف تصور میں آسکتی ہے۔حضور نے اپنے غلاموں کو شرف مصافحہ بخشا۔اور اس امر کی اطلاع ملنے پر کہ بعض غیر احمدی اور مہند و معززین بھی شرف دیدار کے منتظر ہیں۔آپ سینکنڈ کلاس کے و ٹینگ دم میں تشریف لے آئے۔جہاں سب کا آپ سے باری باری تعارف کر دیا گیا۔۔کلام میں سے غلام قادر خال صاحب رحیم بخش صاحب آزاد - پیر زاده عطاء محمد صاحب - محمد ابراہیم صاحب شمی۔لالہ را چند ر صاحب۔مسٹر آرتھر اسے اور پروفیسر صاحبان میں سے چودھری صادق محمد صاحب ایم۔ہے۔مسٹر مبارک احمد صاحب ایم ہے۔گوپال داس صاحب کھنہ ایم۔ہے۔مسٹر و لیسراج صاحب پوری ایم۔ہے قابل ذکر ہیں یا در رام پر تاپ صاحب ہے۔ایس آئی ڈبلیو بھی تھے۔ان کے علاوہ دیگر شرفاء بھی تھے جنہیں ذوق دیدار و ملاقات سٹیشن پر کشاں کشاں کھینچ لایا تھا۔احبابنے پھولوں کے ہار حضور کے گلے میں ڈالے۔آپ اور آپکے رفقاء سفر کی برف اور بوتلوں سے تواضع کی۔چونکہ گاڑی یہاں دس منٹ کیلئے ٹھہرتی ہے۔اسلئے یہ قلیل وقت صانحوں اور تعارف میں صرف ہو گیا۔گاڑی نعروں کے درمیان روانہ ہوئی۔ہجوم بفضلہ اچھا خاصہ تھا۔اور دوستوں نے جس بے تابانہ اخلاص ، کمال شرق اور کیف اور