تاریخ احمدیت (جلد 7)

by Other Authors

Page 236 of 742

تاریخ احمدیت (جلد 7) — Page 236

۲۲۳ کی طرف تشریف لے گئے۔اس سفر میں حضرت امیر المومنین ان کے ہمراہ حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب ایم۔اسے ناظر تعلیم و تربیت - حضرت چوہڑ کی فتح حمد صاحب سیال ناظر اعلی حضرت مولوی عبدالغنی خانصاحب ناظر بیت المال حضرت ڈاکٹر حشمت اللہ خان صاحب اور شیخ یوسف علی صاحب پرائیویٹ سیکریٹری تھے۔حضرت مرزا محمد اشرف صاحب ناظم جائیداد پہلے ہی سندھ پہنچ گئے تھے لیا حضرت امیر المومنین اور مئی ۱۹۳۵ء کو ڈھائی بجے (بعد دو پرنا تجھڈو اسٹیشن پر اتر ہے۔اور تھوڑی دیر آرام فرمانے کے بعد اسٹیشن کی انتظار گاہ میں ظہر و عصر کی نمازیں پڑھائیں اور شام کے 4 بجے حضور کا قافلہ دو پارٹیوں میں احمد آباد اسٹیٹ کی طرف روانہ ہوا۔حضور نے گھوڑے پر سوار ہونا پسند فرمایا۔گھوڑوں پر حضور کے ہمراہ چوہدری غلام احد صاحب مینیجر احمد آباد اسٹیٹ ، حضرت چوہڑی فتح محمد صاحب سیال - حضرت ڈاکٹر حشمت اللہ خان صاحب اور بعض اور اصحا تھے۔ایک پارٹی جو حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب، حضرت مولوی عبد المغنی خالی صاحب ، پچودھری محمد سعید دهستان خلف الرشید خان بها در حضرت نواب چودھری محمد دین صاحب ، حضرت بھائی عبد الرحمن صاحب قادیانی اور شیخ یوسف علی صاحب پرائیویٹ سیکرٹری پرمشتمل تھی ، موڑ کار میں بیٹی۔ایک جگہ موٹر ٹھہراکر حضور سے عرض کی گئی کہ اگر اجازت ہو تو احمد آباد پہلے پہنچ کر منتظر احباب کو اطلاع کر دی جائے کہ حضور گھوڑے پر تشریف لا رہے ہیں حضور نے اجازت تو دے دی لیکن حضور موٹرسے پہلے پہنچے گئے۔احمد آباد اسٹیٹ کے دوستوں نے خوبصورت گیٹ بنایا ہوا اور راستہ سجایا ہوا تھا۔حضور جو نہی احمد آباد میں پہنچے احباب نے اللہ اکبر کے نعروں سے حضور کا استقبال کیا ہے حضور نے اس سفر میں اراضیات سندھ کا معائنہ فرمایا - ارمنی ۱۹۳۵ء کو حیدر آباد میں خطبہ جمعہ ارشاد فرمایا اور سینیٹ ہال میں پبلک لیکچر دیا۔حضرت خلیفہ ایسی الثانی بڑی رواں تقریر فرماتے تھے لیکن حیدر آباد میں حضور نے جو لیکچر دیا اس کے دوران دو ایک سیکنڈ کے لئے حضور کی زبان مبارک میں عجیب طرح لکنت ظاہر ہوئی جسے سب سندھی احمدیوں نے محسوس کیا ہیکہ الفضل درمئی شام صدا کالم احضرت ڈاکٹر صاحب کا نام اس حال میں موجود نہیں ہم جیساکہ اگلی در دور سے ظاہر ہے۔آپ کو بھی اس سفر میں حضور کا ہر کاب ہونے کا شرف حاصل ہوا ہ کے جھڈو اسٹیشن سے 14 میل دورہ سے الفضل مدارسی شد اوص و ہے۔ڈاکٹر عبد العزیز صا خود سندھی حال میڈیکل امیر فضل عمرہسپتال کہو کے مضمون شائع شدہ الفضل ، جون دار ما سر ملخصات