تاریخ احمدیت (جلد 7)

by Other Authors

Page 2 of 742

تاریخ احمدیت (جلد 7) — Page 2

اعلان کر دیا کہ انہوں نے جماعت احمدیہ کو مٹا دینے کا فیصلہ کر لیا ہے اور وہ اس وقت تک سانس نہ لیں گے کی پاتک مٹانہ ہیں۔دوسری طرف جو لوگ ہم سے ملنے جلنے والے تھے اور بظاہر ہم سے محبت کا اظہار کرتے تھے انہوں نے پوشیدہ بغض نکالنے کے لئے اس موقعہ سے فائدہ اُٹھاتے ہوئے سینکڑوں اور ہزاروں روپوں سے اُن کی امداد کہانی شروع کر دی اور تیری طرف سارے ہندوستان نے ان کی پیٹھ ٹھونکی۔یہانتک کہ ایک پہلوا وفد گورنر پنجاب سے ملنے کے لئے گیا تو اُسے کہا گیا کہ تم لوگوں نے احرار کی اس تحریک کی اہمیت کا اندازہ نہیں لگایا۔ہم نے محکمہ ڈاک سے پتہ لگایا ہے پندرہ سو روپیہ روزانہ ان کی آمدانی ہے۔تو اُس وقت گورنمنٹ انگریزی نے بھی اعمار کی فتنہ انگیزی سے متاثر ہو کہ ہمارے خلاف ہتھیار اٹھا لئے اور یہاں کئی بڑے بڑے افسر بھیج کر اور احمدیوں کو رستے چلنے سے روک کر احرار کا جلسہ کو ایا گیا۔، ، ایسے وقت میں تحریک تند پیر کو جاری کیا گیا۔“ لے بدید احراری شورش تو محض " مگر احراری شورش تو محض ایک بہانہ تھی۔تحریک جدید کی سکیم کا نافذ ہونا خدا کی از لی تقدیروں میں سے تھا۔جیسا کہ حضور نے خود وضاحت کرتے ہوئے ارشاد ایک بہانہ تھی فرمایا :- حقیقت یہی ہے کہ احرار تو خدا تعالیٰ نے ایک بہانہ بنا دیا ہے کیونکہ ہر تحریک کے بھاری کرنے کے لئے ایک موقعہ کا انتظار کرنا پڑتا ہے اور جب تک وہ موقعہ میسر نہ ہو جاری کردہ تحریک مفید نتائج نہیں پیدا کر سکتی ہے نیز فرمایا : تحریک جدید کے پیش کرنے کے موقع کا انتخاب ایسا اعلی انتخاب تھا جس سے بڑھ کر اور کوئی اصلی انتخاب نہیں ہو سکتا اور بعدا تعالیٰ نے مجھے اپنی زندگی میں بیو خاص کا میا بیاں اپنے فضل سے عطا فرمائی ہیں اُن میں ایک اہم کامیابی تحریک جدید کو عین وقت پر پیش کر کے مجھے حاصل ہوئی اور یقیناً میں سمجھتا ہوں میں وقت میں نے یہ تحریک کی وہ میری زندگی کے خاص مواقع میں سے ایک موقع تھا اور میری زندگی کی اُن بہترین گھڑیوں ایک سے ایک گھڑی تھی جبکہ مجھے اس عظیم الشان کام کی بنیاد رکھنے کی توفیق ملی۔اس وقت ہم بحت کے دل ایسے تھے جیسے چلتے گھوڑے کو جب روکا جائے تو اس کی کیفیت ہوتی ہے۔“ ہے تقریر فرموده ۲۷ دسمبر سه (غیر مطبوعہ) له الفضل در فروری ۱۹۳۶ و صفحه ۱۰ و تقریر فرموده ۲۶ دسمبر