تاریخ احمدیت (جلد 7) — Page 222
۲۰۹ کی تعریف کئے بغیر نہ رہ سکا۔وہ کہتا تھا۔جاپانیوں کے زمانہ میں جبکہ کسی کی ہمت نہیں ہوتی تھی۔کہ جاپانیوں کے خلاف اپنے گرمی بھی کسی قسم کی بات کرے۔ایسے خطرناک وقت میں مولوی صاحب۔۔۔3 کے کیمپ میں جا کہ جاپانیوں کے خلاف کاروائیاں کرتے۔دنیا حیران ہے کہ مولوی صاحب سجاپانیوں کے ہاتھ سے بیچ کیسے گئے ؟ حالانکہ جاپانیوں کی عادت ہی نہیں تھی کہ کسی معاملہ کی تحقیقات کرتے۔ان کے پاس تو رپورٹ پہنچنے کی دیر ہوتی۔کہ فوراً گرفتاری عمل میں آتی اور بلا پرسش سرکاٹ کر شارع عام پر کھے سے لٹکا دیا جاتا۔اسی طرح احمدیت کے اشد مخالفین کا صفایا ہوا۔اور ایسے ہی حالات میں مولوی صاحب کے خلاف ہر روز رپورٹیں پہنچتی رہتی تھیں۔اور ہر وقت جاپان ملڑی پولیس اور 2۔3۔0 مولوی صاحب کے پیچھے لگی رہتی۔مگر جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے مولوی صاحب کو قبل از وقت اطمینان دلا دیا تھا۔کہ وہ پکڑے نہیں جائیں گئے اور مولوی صاحب نے اکثر لوگوں سے جن میں غیر احمدی بھی ہیں کہدیا تھا۔کہ اللہ تعالیٰ مجھے گرفتاری سے بچا ئیگا۔اللہ تعالیٰ نے اپنا وعدہ پورا کیا۔اور اکثر لوگ جو احمدیت کے مخالف تھے احمدیت کی صداقت کے قائل ہو گئے۔خصوصا مولوی صاحب کے بہت معتقد ہو گئے۔اور بعضوں نے بعیت بھی کرتی۔ملایا کے عام مسلمانوں کی حالت دیکھ کر بڑا افسوس ہوتا ہے۔یہ لوگ دین سے اتنی دور جا پڑے ہیں۔کہ بظاہر حالت درست ہونے کی امید نہیں۔مذہب کی موٹی سے موٹی بات بھی انہیں معلوم نہیں۔جو لوگ کچھ تھوڑا بہت جانتے ہیں۔اس پر عمل نہیں کرتے۔عیاشی کی یہ حالت ہے۔کہ شاید یورپ بھی مات کھا جائے سنیما کے ایسے شوقین کہ گھر میں کھانے کو کچھ نہ ہو۔تو پروا نہیں۔سینیما ضرور دیکھیں گے۔طرفہ یہ کہ عورتیں مردوں سے بہت آگے بڑھی ہوئی ہیں۔اور خدا جاتے مردوں کی غیرت کہاں چلی گئی ہے۔کہ اپنی آنکھوں کے سامنے سب کچھ ہوتا دیکھتے ہیں۔اور چپ رہتے ہیں۔نہ صرف چوپ رہتے ہیں۔بلکہ نوش ہوتے ہیں۔غریب عورتیں پیٹ کی خاطر اپنا سب کچھ بیچتی ہیں۔اور جو آسودہ ہیں وہ عیاشی کی خاطر۔بہر حال میں تو کبھی تصور بھی نہیں کر سکتا تھا۔کہ کوئی مسلمان کہلانے والی خطر زمین سارے کا سارا اسلام سے اتنی دور جا سکتا اور اتنا غافل ہو سکتا ہے۔وہ سارا مذہب اسی بات میں سمجھتے ہیں۔کہ احمدیت کی مخالفت کی بھائے اور لیں۔ان حالات میں مولوی غلام حسین صاحب ایا نہ کی تبلیغی سرگرمیاں دیکھ کر تعجب ہوتا ہے۔کہ