تاریخ احمدیت (جلد 7)

by Other Authors

Page 216 of 742

تاریخ احمدیت (جلد 7) — Page 216

ہے کہ احمدیت نے انہیں اسلام سے مرتد کر دیا ہے۔پس اگر آپ لوگوں میں سے کسی نے میرے باپ پر حملہ کرنے کی جرات کی یا نا جائز طور پر ہمارے گھر کے اندر گھسنے کی کوشش کی تو وہ جان لے کہ اس کی خیر نہیں۔اگر چہ میں عورت ہوں۔تاہم تم یا درکھو کہ خطے کی صورت میں میں اس تلوار سے تین چار کو مار گرانے سے پہلے نہیں مردونگی۔اب جسکا جی چاہیے آگے بڑھ کر اپنی قسمت آزما لے۔اس پر الہ تعالی نے اپنے فضل سے اُس مشتعل مجمع پر ایسا کر عب طاری کیا کہ با وجود اسکے کہ لوکل بائی پولیس کے بعض افراد وہاں کھڑے قیام امن کے بہانے مخالفین احمدیت کی کھلی تائید کر رہے تھے۔پھر بھی مجمع میں ہے کسی فرد کو بھی مکرم حاجی صاحب کے گھر میں گھنے یا حملہ کرنے کی جرأت نہ ہوئی۔آنر جوب کافی وقت گئے تک وہ لوگ منتشر نہ ہوئے تو حاجی صاحب مرحوم نے ان کو مخاطب کر کے کہا۔کہ میں خدا کے فضل سے احمدیت میں داخل ہونے سے پہلے بھی مسلمان تھا اور قبول احمدیت کے بعد تو زیادہ پکے طور پر مسلمان ہو گیا ہوں کیونکہ احمدیت اسلام ہی کا دوسرا نام ہے۔اس پر مخالفین شرمندہ ہو کہ آہستہ آہستہ منتشر ہو۔ایاز صاحب ۱۴ مارچ ستارہ کو سنگا پور سے ملایا کی ریاست جو ہر میں تشریف لے گئے۔اور جوہر دارالسلطنت منگم - پینتیان کھیل۔باتو پاہٹ۔مائرہ کو تا تینگی نبوت وغیرہ شہروں کا تبلیغی دورہ کیا اور انگریزی اور ملائی زبان میں ٹریکٹ تقسیم کئے۔دس روز بعد آپ نے ریا ست طلا کا میں قدم رکھا۔اور اس کے بعض مشہور شہروں مثلاً جاستین آلور گلها مرتمون - ستا میتین اور تنجونگ تک پیغام احمدیت پہنچایا۔۳۱ را اپریل کو آپ خلا کا سے روانہ ہو کہ " نگری کمبلین " کے شہر سرمبان FB AN میں پہنچے ۲۴۰ اپریل کو الیف ایم ایس کے مرکز کو الا لمصور تشریف لے گئے تھے سنگا پور میں احمدیت کا بیج دیا جا چکا تھا جو آہستہ آہستہ بڑھ رہا تھا اور سید رو میں کھینچی آکر ہی تھیں۔کامیابی کے یہ ابتدائی آثار دیکھ کر وسط ۱۹۳۶ میں ملایا میں مخالفت کا بازار گرم ہو گیا۔پہلے ایک پندرہ روزہ اخبار " ورست لایا نے کھلم کھلا مخالفت کی کی پھر علاقہ کے علماء نے آپ کی نسبت واجد القبل ہونے کا فتویٰ دیدیا۔اس ضمن میں مولوی محمد صدیق صاحب امرتسری کا بیان ہے کہ :۔الفضل ۱۳ فرور ی ۱۹ء ص - له الفضل ارمی و حت له الفضل النوم الله من -