تاریخ احمدیت (جلد 7) — Page 215
٢٠٢ میں آپ کی تبلیغ سے متاثر ہو کر حلقہ بگوش احمدیت ہوئے۔مولوی محمد صدیق صاحب امرتسری سابق انجاج سنگا پوریشن کا بیان ہے کہ :۔سنگا پور میں قیام جماعت کے ابتدائی ایام میں مکرم حاجی صاحب مرحوم نے حضرت مولوی غلام حسین صاحب ایازہ کی معیت میں سلسلہ کی خاطر بہت تکلیفیں اٹھائیں۔دو تین مرتبہ بعض معاندین کی طرف سے زدو کوب اور ماریں بھی کھائیں مگر خدا کے فضل سے ہمیشہ ثابت قدم رہے۔ایک مرتبہ بعض مخالف لوگوں کی انگیخت پر دو اڑھائی سو سطح افراد نے آپ کے مکان کا محاصرہ کر لیا۔اور اپنے ایک عالم کو ساتھ لا کہ حاجی صاحب مرحوم سے اسی وقت احمدیت سے منحرف ہونے کا مطالبہ کیا اور بصورت دیگر ان کے جسم کے ٹکڑے ٹکڑے کر دینے کی دھمکی دی۔حاجی صاحب مرحوم نے اُسی وقت اونچی آواز سے تشہد پڑھ کر اعلان کیا کہ میں کس بات سے تو بہ کروں۔میں تو پہلے ہی خدا کے فضل سے ایک سچا مسلمان ہوں۔اور اگر میں نے کسی گناہ سے تو یہ کرتی بھی ہو تو بندوں کے سامنے نہیں بلکہ میں اللہ کے سامنے اپنے سب گناہوں کی معافی مانگتا ہوا اسے ملتی ہوں کہ وہ مجھے معاف کرے۔جب اس کے باوجود مجمع مستقل رہا۔اور مکان میں گھس کر جانی نقصان پہنچانے کی دھمکیاں دیتا رہا۔تو مرحوم مومنانہ جرات اور ہمت سے ایک بچھڑا ہاتھ میں لے کر اپنے مکان کی حدود میں اپنا دروازہ روک کر کھڑے ہو گئے اور ببانگ دہل یہ اعلان کر دیا کہ مرنا تو ہر ایک تے ایک ہی مرتبہ ہے۔کیوں نہ سچائی کی خاطر بازی لگا دی جائے۔اب اگر تم میں سے کسی باپ کے بیٹے میں جرات ہے کہ بری نیت سے میرے مکان میں گھسنے کی کوشش کرے تو آگے بڑھ کر دیکھ لے۔کہ اس کا کیا حشر ہوگا۔مکان کی دوسری سمت سے حاجی صاحب مرحوم کی بہادر لڑ کی باہر نکل آئی۔اور ہاتھوں میں ایک مضبوط ملائی تلوار نہایت جرات سے گھماتے ہوئے اس نے بھی سارے مجمع کو یہ کہتے ہوئے چیلنج کیا کہ میرے والد جب سے احمدی ہوتے ہیں۔میں نے ان میں کوئی خلاف شریع یا غیر اسلامی بات نہیں دیکھی۔بلکہ ایمان اور عملی ہر لحاظ سے وہ پہلے سے زیادہ پکتے مسلمان اور اسلام کے شیدائی معلوم ہوتے ہیں۔اسلئے تمہارا یہ خیال غلط