تاریخ احمدیت (جلد 7)

by Other Authors

Page 203 of 742

تاریخ احمدیت (جلد 7) — Page 203

19- دوسرے لفظوں میں سر محمد اقبال صاحب مسلمانوں سے یہ منوانا چاہتے ہیں کہ جو شخص رسول کریم صلے اللہ علیہ وسلم کی رسالت کو منسوخ کرنے قرآن کریم کے بعد ایک نئی کتاب لانے کا مدعی ہو۔اپنے لئے خدائی کا مقام تجویز کرے اور اپنے سامنے سجدہ کرنے کو جائز قرار دے جیس کے خلیفہ کی بیعت فارم میں صاف لفظوں میں لکھا ہو کہ وہ خدا کا بیٹا ہے ، وہ پانی سلسلہ احمدیہ سے اچھا ہے جو اپنے آپ کو مخادم رسول اکرم صلے اللہ علیہ وسلم قرار دیتے ہیں۔اور قرآن کریم کی اطاعت کو اپنے لئے ضروری قرار دیتے ہیں اور کعبہ کو بیت اللہ اور کلمہ کو مدار نجات سمجھتے ہیں۔کیونکہ بہائی تو رسول کریم صلے اللہ علیہ وسلم کی ذات پر اور قرآن کریم پر حملہ کرتے ہیں۔لیکن احمدی سر محمد اقبال اور ان کے ہمنواؤں کو روحانی بیمار قرار دے کہ انہیں اپنے علاج کی طرف توجہ دلاتے ہیں اور ان کے ایمان کی کمزوریوں کو اُن پر ظاہر کرتے ہیں۔یہ میں تفاوت رہ از کجاست تا به کجا۔محمد اقبال مسترس مدد کی پناہ نہیں لے سکتے کہ میرا صرف مطلب یہ ہے کہ بہائی منافق نہیں اور احمدی منافق ہیں۔کیونکہ اول تو یہ غلط ہے کہ بہائی کھلے بندوں اپنے مذہب کی تلقین کرتے ہیں۔اگر سر محمد اقبال یہ دعویٰ کریں تو اس کے صرف یہ معنی ہوں گے کہ بیسویں صدی کا یہ مشہور فلسفی ان فلسفی تحریکات تک سے آگاہ نہیں جن سے اس وقت کے معمولی نوشت خواند والے لوگ آگاہ ہیں۔سر محمد اقبال کو معلوم ہونا چاہئیے کہ بہائی اپنی کتب عام طور پر لوگوں کو نہیں دیتے بلکہ انہیں چھپاتے ہیں۔وہ ہر ملک میں الگ الگ عقائد کا اظہار کرتے ہیں۔وہ امریکہ میں صاف لفظوں میں بہاء اللہ کو خدا کے طور پر پیش کرتے ہیں۔لیکن اسلامی ممالک میں اس کی حیثیت ایک کامل ظہور کی بتاتے ہیں۔وہ اسلامی ممالک میں مسلمانوں کے ساتھ مل کو نمازیں پڑھ لیتے ہیں۔ویسا ہی وضو کرتے ہیں اور اتنی ہی رکھتیں پڑھتے ہیں جتنی کہ مسلمان۔لیکن الگ طور پر دو صرف تین نمازوں کے قائل ہیں اور ان کے ہاں نماز پڑھنے کا طریق بھی اسلام سے مختلف ہے۔پھر یہ بھی درست نہیں کہ احمدی منافق ہیں اور لوگوں سے اپنے عقائد چھپاتے ہیں۔اگر احمدی مداہنت سے کام لیتے تو آج سر محمد اقبال کو اس قدر اظہار غصہ کی ضرورت ہی کیوں ہوتی