تاریخ احمدیت (جلد 7)

by Other Authors

Page 199 of 742

تاریخ احمدیت (جلد 7) — Page 199

IAA سوائے اس کے اور کوئی معنی نہیں ہو سکتے کہ جیسے رومیوں نے حضرت مسیح ناصری سے سلوک کیا تھا دیا ہی سلوک انگریزوں کو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسّلام سے کرنا چاہیے تھا۔اگر اس فقرہ سے ہزارواں حصہ کم بھی کسی احمدی کے منہ سے نکل جانا تو ایک طوفان مخالفت برپا ہو جاتا اور احراری شور مچانے لگ جاتے کہ مسیح ناصری کی توہین کر دی گئی لیکن اب چونکہ یہ الفاظ اس شخص نے کہے ہیں جو ان کا لیڈر ہے اس لئے اگر وہ رومیوں کے مظالم کی تعریف بھی کر بجائیں تو کہا جاتا ہے واہ وا ! کیا خوب بات کہی !! احمدی رسول کریم صل اللہ علیہ وسلم کی تعریف کریں تو آپ کی ہتک کرنے والے قرار پائیں۔اور یہ حضرت مسیح کی کھلی کھلی توہین کریں تو آپ کی عزت کرنے والے سمجھے جائیں۔یہ باتیں بتاتی ہیں کہ مسلمانوں کا ایک حصہ ایسے مقام پر پہنچ گیا ہے جہاں نجات اس کے لئے ناممکن ہو گئی ہے۔وہ ہماری دشمنی میں ہر چیز کو توڑنے کے لئے تیار ہیں۔وہ ہماری عداوت میں اسلام پر تیر چلانے ، رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت پر تبر چلانے اور پہلے انبیاء کی عزتوں پر تیر چلانے کے لئے بھی تیار ہیں اور صرف اس ایک مقصد میں کامیاب ہونا چاہتے ہیں کہ جماعت احمدیہ کھیل دی جائے لیکن جیسے اسلام اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور پہلے انبسیار پر جو تبر لائے جائیں گے وہ رائیگاں جائیں گے۔اسی طرح پہ وہ تب جو جماعت احمدیہ پر چلایا جائے گا۔آخر چکر کھا کر انہی کے پاؤں پر پڑے گا اور جماعت احمدیہ کو ایک ذرہ بھر بھی نقصان نہیں پہنچا سکے گا۔" ہے حضرت امیر المومنین کا بصیرت افروزاستیدا حضرت خلیفہ بیع الثانی نے خطبہ جمعہ میں تصور کرنے کے بعد ڈاکٹر سر محمداقبال اور احمدیہ جماعت“ کے عنوان سے ایک تبصرہ (مضمون کی صورت میں ) نہایت محققانہ مضمون بھی تحریر فرمایا جو " الفضل " مار جولائی ۱۹۳۵ یں چھینے کے علاوہ ٹیکٹ کی شکل میں بھی شائع ہوا۔اس قیمتی مضمون کا مکمل متن درج ذیل کیا جاتا ہے۔أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَنِ الرَّحِيمِ بسمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ تحدة وَنُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الكَرِيم کا خدا کے فضل اور پریم کے ساتھ کیا ٹور اصر ڈاکٹر سر محمد اقبال اور احمدیہ جماعت سر محمد اقبال صاحب کو کچھ عرصہ سے میری ذات سے خصوصا اور جماعت احمدیہ سے عموماً بغض پیدا ہو گیا ة " الفضل"۔۳ مئی ۹۳۵ از صفحه ۴ و ۵ د خطبه جمعه فرموده ۲۴ مئی ۱۲ه)