تاریخ احمدیت (جلد 7) — Page 198
IAL تحریک کو کیوں کچل نہ دیا ؟ کیونکہ ان کے نزدیک اگر نئی تحریکات کا مقابلہ نہ کیا جائے تو اس طرح اکثریت کو نقصان پہنچتا ہے۔پس ان کے نزدیک حکومت کا فرض تھا کہ احمدیت کو کچل دیتی۔بلکہ انہیں شکوہ ہے کہ انگریزوں نے تو اتنی بھی عقلمندی نہ دکھائی جتنی روحا کی حکومت نے حضرت مسیح ناصری کے وقت میں دکھائی تھی۔انہوں نے اتنا تو کیا کہ حضرت مسیح ناصری کو صلیب پر لٹکا دیا۔گوید دوسری بات ہے کہ خدا نے اپنے فضل سے انہیں بچا لیا۔اس فقرہ کے سوائے اس کے اور کوئی معنی نہیں کہ رومی حکومت نے جب حضرت مسیح ناصری کو صلیب پر لٹکایا تو اس نے ایک جائزہ مستحسن اور قابل تعریف فعل کیا اور اچھا کیا جو یہودیوں کے شور و غوغا کوشنکر عیسائیت کے بانی پر ہاتھ اُٹھایا۔یا تو ان لوگوں کو اتنا غصہ آتا ہے کہ اگر ہم حضرت میسح ناصری کو وفات یافتہ کہدیں تو اُن کے تن بدن میں آگ سی لگ جاتی ہے یا اب احمدیت کی مخالفت میں عقل اس قدر ماری گئی ہے کہ کہا جاتا ہے حضرت میسج ناصری کو صلیب پر لٹکانے کا فعل جو رومیوں نے کیا وہ بہت اچھا تھا گو پورا اچھا کام نہیں کیا کیونکہ وہ بیچ رہے۔ان کا فرض تھا کہ اگر حضرت مسیح ناصری آسمان پر چلے گئے تھے تو رومی انہیں آسمان سے کھینچ لاتے اور اگر کشمیر چلے گئے تھے تو وہاں سے پکڑ لاتے اور اُن کے سلسلہ کا خاتمہ کر دیتے۔تاکہ یہود کے اتحاد ملت میں فرق نہ آتا۔مگر انگریزوں سے تو بہر حال وہ زیادہ عقلمند تھے کہ انہوں نے اپنی طرف سے انہیں صلیب پر لٹکا دیا اور اب ڈاکٹر سر اقبال کو شکوہ ہے کہ انگریزوں نے اتنی جرات بھی نہ دکھائی اور بناوٹی طور پر بھی حضرت مرزا صاحب کو سزا نہ دی۔تو یہ بیان ہے جو ڈاکٹر سر اقبال نے دیا اور مسلمان خوش ہیں کہ کیا اچھا بیان ہے۔حالانکہ اس فقرہ کے ے ڈاکٹر صاحہ نے اپنے ایک اور مضمون میں یہ بھی لکھا کہ چونکہ ایمسٹرڈم میں یہودی بے انتہا اقلیت میں تھے اس لئے وہ سیانورا کو محرک انتشار اور قوم میں موجب اختلاف تصور کرتے تھے علی ہذا القیاس ہندوستانی مسلمان بھی تحریک قادیانیت کو جو تمام دنیائے اسلام کو کافر سمجھتی ہے اور انکی معاشرتی بائیکاٹ کر رہی ہے سپائنتوزا کی مابعد الطبیعات کے مقابلہ میں ہزار ہا درجہ زیاد و خطر ناک اور مہلک خیال کرتی ہے۔ایک سیاسی نیر نے اس نظریہ پر یہ دلچسپ تبصرہ کیا کہ " ڈاکٹر اقبال اور ان سے میدانوں کو یہود سے یہ خود تجویز کردہ مقامات مبارک ہو۔مگر سوال یہ ہے کہ کیا ڈاکٹر اقبال اور ان کے ہم خیال مسلمان روئے زمین کے تمام مذاہب کے پیروؤں کو کافر نہیں کہتے اور ان سے معاشرتی بائیکاٹ نہیں ہوئے، اگر ایسا ہی ہے تو کیا غیرمسلموں کو یہ حق حاصل ہے کہ اسلام کو دنیا میں انتشار پیدا کرنے کا موجب اور ڈاکٹر اقبال اور ان کے ہم خیالوں کو اس کا مجرم قرار دیں" و"الفضل ۲۰ فروری ۹۳ صفحه ۵ کالم ۴)