تاریخ احمدیت (جلد 7) — Page 186
140 میرے نزدیک۔۔۔۔بہائیت قادیانیت سے کہیں زیادہ مخلص ہے کیونکہ وہ کھلے طور پر اسلام سے باغی ہے" نے نیز لکھا :- ”ہندوستان میں حالات بہت غیر معمولی ہیں۔اس ملک کی بیشمار مذہبی جماعتوں کی بقاء اپنے استحکام کے ساتھ وابستہ ہے۔کیونکہ جو مغربی قوم یہاں حکمران ہے اس کے لئے اس کے سوا چارہ نہیں کہ مذہب کے معاملہ میں عدم مداخلت سے کام لے۔اس پالیسی نے ہندوستان ایسے ملک پر بدقسمتی سے بہت برا اثر ڈالا ہے۔جہانتک اسلام کا تعلق ہے یہ کہنا مبالغہ نہ ہو گا کہ مسلم جماعت کا استحکام اس سے کہیں کم ہے جتنا حضرت مسیح کے زمانہ میں یہودی جماعت کا رومن کے ماتحت تھا۔ہندوستان میں کوئی مذہبی سٹے باز اپنی اغراض کی خاطر ایک نئی جماعت کھڑی کر سکتا ہے اور یہ بقی حاشیه صفحه گذشته - استانہ مضامین لکھے تھے جو افضل (۳۵) میں شائع ہوئے۔اسی طرح ریویو ان ریلیجن انگریزی جون ۳ اد میں بھی ایک اہم مقالہ شائع ہوا۔سید ابوالا مسلئے صاحب مودودی ڈاکٹر سر محمد اقبال اور ان کے ہمنواؤں نظریہ ختم نبوت کی تخلیط کرتے ہوئے لکھتے ہیں:۔" جو لوگ ختم نبوت کی یہ توجیہ کرتے ہیں کہ انسانی شعور کو اس کی ضرورت نہیں رہی تو وہ در اصل سلسلہ نبوت کی تو ہین اور اس پر حملہ کرتے ہیں۔اس تعبیر کے معنی یہ ہیں کہ صرف ایک خاص شعوری حالت تک ہی اس ہدایت کی ضرورت ہے جو نبی لاتے ہیں۔اس کے بعد انسان نبوت کی رہنمائی سے بے نیاز ہو گیا ہے" در ساله ترجمان القرآن " لاہور بابت ستمبر ۹۵ در صفحه ۴۳۳۱ جلد ۴۲ نمبر ۱۶) حاشیه متعلقه صفحه بندا نے سرمحمد اقبال صاحب کا دعوی ہے کہ اسلامی حقائق و معارف میں نے مولانا رومی سے حاصل کئے ہیں مگر انہوں نے ختم نبوت کے میں فلسفیانہ تخیل کی بناء پر قادیانیت کو بہائیت کے مقابل اسلام کا بانی قرار دیادہ تخیل مولانا رومی کے نقطہ نگاہ سے بالکل مختلف ہے۔مولانا روم نے تو ختم نبوت کی تفسیر ہی یہ فرمائی ہے کہ :۔ختم ہائے کا نبیا بگذاشتند۔آن بدین احمدی برداشتند + قفل پائے تا کشاده مانده بود - از كف انا فتحنا بر کشور + بهر این خانم شدست او که بود ، مثل او نے بود نے خواهند بوده چونکه درصنعت برد استاد دست - نے تو کوئی ختیم صنعت بر تو هست مثنوی دفتر ششم علامہ سید عاشق حسین صاحب سیماب اکبر آبادی نے ان اشعار کو اُردو نظم میں یوں ڈھالا ہے :- سه تا پہلے گو راہ ختم رسلان - ٹوٹ جائے لب کی یہ شہر گواں : اگلے نبیوں نے جو شہریں چھوڑ دیں۔دین احمد نے وہ مہریں توڑ دیں ؟ بے کھٹے تھے تضلی مدت سے پڑے۔اب وہ سب اِنا فَتَمنا سے کھلے ختم یوں پیغمبری اُن پر ہوئی۔کوئی اُن سا تھا نہ پھر ہو گا کوئی کرتا ہے اُستاد جب صنعت کوئی۔کہتے ہیں بس ختم ہے صنعت گری: الهام منظوم ترجمہ اردو شنوی مولانا روم رحمت الله علیه دفتر ششم، علامه سید عاشق حسین صاحب سیماب اکبر آبادی صفحه ۱۹ - ناشران ملک دین محمد اینڈ ستر اشاعت منزل لاہور )