تاریخ احمدیت (جلد 7)

by Other Authors

Page 185 of 742

تاریخ احمدیت (جلد 7) — Page 185

۱۷۴ زور لگارہا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام ہمیں جو جھنڈا دے گئے ہیں، اُسے گرا دے۔اب ہمارا فرض ہے کہ اُسے اپنے ہاتھوں میں پکڑے رہیں اور اگر ہاتھ کٹ جائیں تو پاؤں میں پکڑلیں اور اگر اس فرض کی ادائیگی میں ایک کی جان چلی جائے تو دوسرا کھڑا ہو جائے اور اس جھنڈے کو پکڑے۔میں ان نمائندوں کو چھوڑ کر ان بچوں اور نوجوانوں سے جو اوپر بیٹھے سُن رہے ہیں ، کہتا ہوں ممکن ہے یہ جنگ ہماری زندگی میں ختم نہ ہو گو اس وقت لوہے کی تلوار نہیں چل رہی۔لیکن واقعات کی ، زمانہ کی اور موت کی تلوار تو کھڑی ہے ممکن ہے یہ چل جائے۔تو کیا تم اس بات کے لئے تیار ہو کہ اس جھنڈے کو گرنے نہ دو گے ؟ راس پر سب نے بیک آواز لبیک کہا) ہمارے زمانہ کو خدا اور اس کے رسولوں نے آخری زمانہ قرار دیا ہے۔اس لئے ہماری قربانیاں بھی آخری ہونی چاہئیں۔ہمیں خدا تعالیٰ نے دنیا کی اصلاح کے لئے چنا ہے۔اور ہم خدا ت لی کی چیدہ جماعت ہیں۔ہمیں دنیا سے ممتاز اور علیحدہ رنگ میں رنگین ہونا چاہیئے صحابہ ہمارے ادب کی جگہ ہیں۔مگر عشق میں رشک پیاروں سے بھی ہوتا ہے۔پس ہمارا مقابلہ اُن سے ہے جنہوں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے دوش بدوش جنگیں کیں اور اپنی جانیں قربان کیں۔ہم اُن کی بجد عزت رتے اور توقیر کرتے ہیں۔لیکن کوئی وجہ نہیں کہ اُن کی قربانیوں پر رشک نہ کریں اور اُن سے بڑھنے کی کوشش نہ کریں “ فصل دوم سالانہ جلسه انجمن حمایت اسلام کی ہنگامہ آرائی کے چند روز بعد ڈاکٹر ڈاکٹر محمد اقبال صاحب کا بیان - معمار اقبال صاحب نے مری کو ایک طویل بیان دیا جو اخبار جماعت احمدیہ کی نسبت "زمیندار" اور احسان" میں شائع ہوا۔اس بیان میں آپ نے مطالبہ کیا کہ حکومت جماعت احمدیہ کو ایک غیرمسلم اقلیت قرار دے۔اس عجیب و غریب مطالبہ کی معقولیت ثابت کرنے کے لئے مسئلہ ختم نبوت کی خود ساختہ فلسفیانہ تشریح کا سہارا لیکر اپنا یہ خیال ظاہر کیا کہ : ه گورت مجلس مشاورت ۱۹۳۹ء سفر ۹۲-۹۲ کے اقبال صاحب کے تصور ختم نبوت پر انہی دنوں جناب حقانی صاحب اہم ہے پروفیسر علامہ سید عبد القادر صاحب بھاگلپوری اور جناب امیر عالم صاحب پٹیالوی نے نہایت قابل قدر معرکۃ الآراء اور (بقیہ حاشیہ اگلے صفحہ پیہ)