تاریخ احمدیت (جلد 7) — Page 172
141 سی آئی ڈی کے آدمی بھی نمایاں طور پر نظر آتے تھے خصوصاً آغار شید صاحب سب انسپکٹر سی۔آئی ، ڈی بہت واضح طور پر سپیکر کاٹ رہے تھے۔احرار کے متعلق معلوم ہوا کہ ۲۲ مارچ کو بروز تبعہ مولوی عطاء اللہ بخاری نے خطبہ جمعہ گورداسپور میں پڑھا اور کہا کہ اگر میں زندہ بیچ کر آگیا تومیں تم کو تمہارے مکانوں میں آکر ملوں گا۔تمہارے لڑکوں اور لڑکیوں کے لئے مدرسے بناؤں گا اور یہ کروں گا اور وہ کروں گا۔احراریوں کی طرف سے کئی ایک مولانے آئے ہوئے تھے۔جن میں مولوی جیب الرحمن لدھیانوی اور مولوی کرم الدین صاحب ساکن بھیں ضلع جہلم بھی تھے۔مولوی کرم الدین نے اس مقدمہ میں آکر حضرت خلیفہ ایسی ایدہ اللہ کی حضرت مسیح موعود علیہ السّلام کے ساتھ ایک اور مماثلت پوری کر دی اور وہ یہ کہ جس طرح کرم الدین کے مقدمہ میں اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو عزت سے نوازا اور ہزاروں آدمیوں کے سامنے کرم الدین کو ذلیل کیا حالانکہ وہ آپ کی ذلت دیکھنے کا متمنی تھا اسی طرح خدا تعالیٰ نے ان لوگوں کو بتا دیا کہ وہ سلسلہ اب کس طرح بڑھا اور پھلا پھولا ہے اور کس طرح آج اُس دن کی نسبت بلیسیوں گنا زیادہ لوگ جمع ہیں جس طرح کرم الدین نے آکر ہم پر یہ ثابت کر دیا کہ وہ اور عطاء اللہ ایک ہی ہیں اسی طرح مسیح موعود اور تخلیقہ ایسے ایک ہی ہیں۔احمدیوں کو جب معلوم ہوا تو وہ جوق در جوق اس شخص کو دیکھنے جاتے تھے سبس کے سبب خدا کے برگزیدہ سیج کی صداقت کے بیسیوں نشان ظاہر ہوئے اور خدا تعالیٰ کے مامور و مُرسل کے شمنوں کی صفت اول میں لڑا اور ناکام و نامرد ہوا۔مولانا انور صاحب بوتالوی نے اس کی تصویر بھی لی۔تاکہ آئندہ نسلوں کے لئے باعث عبرت ہو۔اخواری کہلانے والوں میں ایک طبقہ ایسے لفنگوں کا تھا جو کوشش کرتا تھا کہ کسی نہ کسی طرح احمدیوں کے گلے پڑے مگر پولیس نے انہیں کامیاب نہ ہونے دیا۔ہندوؤں اور سکھ معتر زمین کی ایک بڑی جماعت حضرت امیر المومنین کو دیکھنے کے لئے بیقرار تھی اور وہ پوری بیقراری سے کئی گھنٹے انتظار میں کھڑی رہی۔بحضرت امیرالمومنین جب عدالت کے کمرے میں داخل ہوئے ، دیوان سکھ انند صاحب سپیشل مجسٹریٹ نے حضور کا پورا احترام کیا اور حضور کو کرسی پیش کی جضور کے ساتھ حسب ذیل حضرات کو اندر جانے کا شرف حاصل ہوا جناب چودھری ظفر اللہ خان صاحب ، چودھری اسد الله خال صاحب ، پیر اکبر علی صاحب محمد کونسل ، شیخ بشیر احمد صاحب ، مرزا عبد الحق صاحب بی۔اے وکیل چودھری نصیر الحق صاحب بی۔اے وکیل ایڈری صاحب الفضل ، ملک عبد الرحمن صاحب خادم۔نه محترم ملک صلاح الدین صاحب ایم اے نے اصحاب حمد جلد اول ص پر یہ تصویر شائع کر دی ہے۔