تاریخ احمدیت (جلد 7)

by Other Authors

Page 113 of 742

تاریخ احمدیت (جلد 7) — Page 113

۱۰۵ بلکہ کم سے کم ایک آدمی ایسا ضرور تیار کرے گا جو دفتر دوم میں حصہ ہے اور اگر وہ زیادہ آدمی تیا کر سکے تو یہ اور بھی اچھی بات ہے “ لے 2 ارٹی شاہ کو تحریک جدید کے سرمایہ سے قادیان میں فضل فضل محمد بیر جانسٹی ٹیوٹ کاقیام اریا ان میں سے تحقیقی ادارہ کی بنیاد رکھی گئی۔اور اس کا افتتاح و ر ا پریل ۱۹۴۶ء کو ہندوستان کے مشہور سائنسدان سرشانتی سروپ بھٹناگرنے کیا۔انسٹی ٹیوٹ نے تین سال کے قلیل عرصہ میں بیرونی مالک سے لیبارٹری کا قیمتی سامان فراہم کرنے کے علاوہ سانس کے مستند اور تازہ لٹریچر مشتمل ایک مثالی لائیبریری قائم کر دکھائی۔اخبار انقلاب ها بود ) ۲۰ اپریل ۱۳۶ه ، روزنامه شیسمین و بی کلکتہ) (مئی ۱۹۴۷) اور لندن کے مشہور سائنسی رسالہ "NATURE " نے درجون لہ کی اشاعت میں فضل عمر ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کے افتتاح پر نہایت زور دار تبصرے شائع کئے اور مذہب و سائنس کی ہم آہنگی کے لئے جماعت احمدیہ کی اس شاندار کوشش کو بہت سراہا ہے معلبة حلف الفضول" کا احیاء " ار جولائی کام کو حضور نے الہام الہی کی بنا پر معاہدہ سیلف الفضول کا امتیار فرمایا نیز بتایا کہ یہ ایک معاہدہ تھا جو حضرت رسول کریم صلے اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں بعثت سے قبل ہوا۔جس میں زیادہ جوش کے ساتھ حصہ لینے والے تین فضل نام کے آدمی تھے۔اس لئے اس کو حلف الفضول کہتے ہیں۔اور اس معاہدہ کا مطلب یہ تھا کہ ہم مظلوموں کو ان کے حقوق دلوانے میں مدد کیا کرینگے اور اگر کوئی اُن پر ظلم کرے گا تو ہم اس کو روکیں گے۔ہے الفضل " ۲۸ اگست وارد صفحه در خطبه فرموده ۲۸ اگست ۱۹۴۵) ہ ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کا مفصل ذکر ۹۴۶ ائر کے حالات میں آرہا ہے ؟ ے افسوس ہ کی تقسیم ملک سے حالات یکسر بدل گئے اور لیبارٹری اور لائیبریر کی دونوں جماعت سے چھن گئیں۔تقسیم ملک کے بعد لاہور میں ماڈل ٹاؤن کے قریب ایک اُجڑا ہوا کارخانہ الاٹ کر واکر اسی میں ریسرچ کا کام جاری کیا گیا۔کچھ عرصہ بعد ربوہ میں ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کی اپنی مستقل عمارت بھی تعمیر ہوگئی "الفضل " ۲۲ جولائی ۱۹۳۳ صفرا : ھے حلف الفضول میں شمولیت کی ضروری شرائط " مطالبات تحریک جدید " طبع چہارم صفحه ۱۵۷ و ۱۵۸ پر موجود نہیں بے