تاریخ احمدیت (جلد 7)

by Other Authors

Page 95 of 742

تاریخ احمدیت (جلد 7) — Page 95

AZ ہے اور اب یہ واقفین کا ہر گز بھی نہیں کہ وہ خود بخود کام چھوڑ کر پہلے جائیں۔ہاں ہمیں اس بات کا اختیار حاصل ہے کہ اگر ہم انہیں کام کے ناقابل دیکھیں تو انہیں الگ کر دیں۔پس یہ سہ سالہ واقفین نہیں بلکہ میں طرح یہ دور ستقل ہے اسی طرح یہ وقف بھی مستقل ہے اور اس دور میں کام کی اہمیت کے پیش نظر میں نے یہ شرط بند کر دی ہے کہ صرف وہی نوجوان لئے جائیں گے جو یا تو گریجوایٹ ہوں یا مولوی فاضل ہوں۔اور چونہ گریجوایٹ ہوں اور نہ مولوی فاضل ، انہیں نہیں لیا جائے گا۔کیونکہ ان لوگوں نے علمی کام کرنے ہیں۔اور اس کے لئے یا تو دینی علم کی ضرورت ہے یا دنیوی علم کی۔اس دور میں تین چار آدمیوں کو منہا کر کے کہ وہ گریجوایٹ نہیں کیونکہ وہ پہلے دور کے بقیہ واقفین میں سے ہیں ، باقی سب یا تو گریجوایٹ ہیں یا مولوی فاضل ہیں۔چنانچہ اس وقت پار گر یجوٹ ہیں اور بچا رہی مولوی فاضل ہیں۔گل قالباً بارہ نوجوان ہیں۔پیار ان میں سے غیر گریجوایٹ ہیں۔مگر میں سب ایسے ہی جو اللہ تعالیٰ کے فضل سے محنت سے کام کرنے والے اور سلسلہ سے محبت رکھنے والے ہیں۔۔میرا منشاء ہے کہ النامیں سے بعض کو مرکز کے علاوہ باہر جا کر اعلی تعلیم دلوائی جائے اور علمی اور عملی لحاظ سے اس پایہ کے نوجوا پیدا کئے جائیں جو تبلیغ ، تعلیم اور تربیت کے کام میں دنیا کے بہترین نوجوانوں کا مقابلہ کر سکیں بلکہ اُن سے فائق ہوں۔صرف انہیں مذہبی تعلیم دینا ہی میرے مدنظر نہیں۔بلکہ میرا منشاء ہے کہ انہیں ہر قسم کی دنیوی معلومات بہم پہنچائی جائیں اور دنیا کے تمام علوم انہیں سکھائے جائیں تا دنیا کے ہر کام کو سنبھالنے کی اہلیت اُن کے اندر پیدا ہو جائے۔ان نوجوانوں کے متعلق میری سکیم جیسا کہ میں گذشتہ مجلس شوری کے موقع پر بیان کر چکا ہوں ، یہ ہے کہ انہیں یورپین ممالک میں بھیج کر اعلیٰ سے اعلی تعلیم دلائی جائے۔اور جب یہ ہر قسم کے علوم میں ماہر ہو جائیں تو انہیں تنخواہیں نہ دی بجائیں بلکہ صرف گزارے دیئے جائیں اور اُن کے گزارہ کی رقم کا انحصار علمی قابلیت کی بجائے گھر کے آدمیوں پر ہو جیسا کہ صحابیہ کے زمانہ میں ہوا کرتا تھا اور یوں انتظام ہو کہ جس کی بیوی ہوئی یا بچتے ہوئے اُسے زیادہ الائونس دے دیا۔اور میں کے بیوی بچے نہ ہوئے اُسے کم گذارہ دے دیا۔یا کسی نوجوان کی شادی ہونے لگی تو اُسے تھوڑی سی امداد دے دی ہے مجاهدی تحریک جدید کو اُن دنوں نہایت معمولی خروج دیا جاتا تھا جس کی تفصیل خود حضور کے الفاظ میں پیش الفضل ٢٠ ٢٧ نومبر ١٩٣٨اء صفحه ٠٩٠٨ -A