تاریخ احمدیت (جلد 7) — Page 94
Aч کروں گا۔لیکن اگر نکا ثابت ہوں تو سزا بھی بخوشی برداشت کر لوں گا"۔" مجھے امید ہے کہ ہمارے نوجوان ان شرائط کے ماتحت جلد از جلد اپنے نام پیش کریں گے تا اس سکیم پر کام کر سکیں جو میرے مد نظر ہے۔ہم آدمی تو تھوڑے ہی لیں گے مگر جو چند آدمی سینکڑوں میں سے بچنے جائیں گے وہ بہر حال ان سے بہتر ہوں گے جو پانچ سات میں سے مجھے جائیں۔پچھلی مرتبہ قریباً دو سو نوجوانوں نے اپنے آپ کو پیش کیا تھا اور مجھے امید ہے کہ اب اس سے بھی زیادہ کریں گے جیہنوں نے پچھلی مرتبہ اپنے آپ کو پیش کیا تھا وہ اب بھی کر سکتے ہیں بلکہ جو کام پر لگے ہوئے ہیں وہ بھی چاہیں تو اپنے نام پیش کر سکتے ہیں کیونکہ ان کی تین سال کی مدت ختم ہو گئی ہے۔بعض ان میں سے ایسے ہیں جو سمجھتے ہیں کہ تین سال تو ہم جانتے نہیں جب ایک دفعہ اپنے آپ کو پیش کر دیا تو پھر پیچھے کیا ہٹنا ہے۔اُن کو بھی قانون کے ماتحت پھر اپنے نام پیش کرنے چاہئیں۔کیونکہ پہلے ہمارا مطالبہ صرف تین سال کے لئے تھا۔اور جو بھی اپنے آپ کو پیش کریں پختہ عزم اور ارادہ کے ساتھ کریں لے مستقل واقعین کی ٹریننگ مندرج بالا ترکی کے تیل میں تحریک جدید کے دورانی کو عظیم خصوصیت حاصل ہوئی کہ کئی مخلص نوجوان مستقل طور پر اپنی زندگی وقف کر کے حضور کے قدموں میں آگئے اور حضور کی خصوصی توجہ اور تعلیم و تربیت اور دعاؤں نے نہایت قلیل گذارہ پانے والی مستقل واقفین کی ایثار پیشہ مخلص اور قربانی کرنے والے مجاہدوں کی ایک ایسی جماعت تیار کر دی جس نے آئندہ چل کر اسلام اور احدیت کی عظیم الشان اور ناقابل فراموش خدمات انجام دیں اور نہ صرف بیرونی دنیا میں میشن قائم کئے بلکہ مرکز میں نئے مبلغین اختیار کرنے میں ہر ممکن جد وجہد کی جو حضور کی قوت قدسی کی دلیل اور شاندار کارنامہ ہے جس کو جتنا بھی سراہا جائے بہت کم ہے۔ان واقفین نے قناعت کا اعلیٰ نمونہ پیش کرتے ہوئے دین کو دکھیا پر مقدم کرنے کا عملی ثبوت پیش کیا حضرت امیر المومنین انہی جانفروش واقفین کا تذکرہ کرتے ہوئے ارشاد فرماتے ہیں :- لا نہیں تحریک جدید کے دور ثانی میں مستقل کام کی داغ بیل ڈالنے کے لئے مالی تر تحریک کے علاوہ کہ وہ بھی مستقل ہے، ایک مستقل جماعت واقفین کی تیار کر رہا ہوں۔دور اول میں میں نے کہا تھا کہ نوجوان تین سال کے لئے اپنی زندگیاں وقف کریں مگر دور ثانی میں وقف عمر بھر کے لئے له الفضل " ۲۲ دسمبر ۱۹۳۷ و صفحه ۷ کالم ۹۳ + r