تاریخ احمدیت (جلد 6) — Page 568
j تاریخ احمدیت جلده ۵۵۴ ۳۳۸ اس ظلم و ستم کا اندازہ کرنے کے لئے اخبار زمیندار اور احسان میں شائع شدہ چند خبریں ملاحظہ ہوں۔۱ اخبار زمیندار (۱۵/ جنوری ۱۹۳۵ء) نے بنگہ میں قادیانیوں کا بائیکاٹ کے عنوان سے لکھا۔ایک آدمی نے بیان دیا کہ کل عید کے دن شام کے چار بجے ایک نا واقف شخص نے ایک قصاب کی دکان سے گوشت خریدا۔اتنے میں اس کا ایک رشتہ دار آگیا۔اس نے اگر کہا کہ یہ دکان مرتد مرزائی کی ہے تم نے یہاں سے گوشت کیوں خرید کیا عید گاہ میں جو معاہدہ کیا تھا۔یاد نہیں۔اس نے اپنی بے خبری ظاہر کی کیونکہ وہاں پہلے ایک مسلمان قصاب بیٹھا کرتا تھا اور گوشت واپس کر دیا۔الحمد للہ مسلمانان بنگہ اپنے عہد کی پاسداری کر رہے ہیں۔۲- احسان (۷ار جنوری ۱۹۳۵ء) میں دیال گڑھ میں مرزائیوں کا بائیکاٹ اور بھنگواں میں مرزائیت کے خلاف عملی جہاد کے عنوانوں کے تحت یہ نوٹ شائع ہوا۔دیال گڑھ میں مرزائیوں سے کلیتہ بائیکاٹ کر دینے اور اس پر سختی سے عمل پیرا ہونے کا فیصلہ کیا گیا جملہ حضار نے صمیم قلب سے تمام عملی تجاویز پر پابند رہنے کا وعدہ کیا اور بھنگوں سے متعلق لکھا۔کئی روز سے مرزائیوں کا بائیکاٹ کیا ہوا ہے۔مرز ایکٹوں کے ساتھ حقہ پانی بند اور راہ درکم کلیتہ ممنوع ہے۔دیسہ ہذا کی انجمن کا فیصلہ ہے کہ خلاف ورزی کرنے والی پچاس روپیہ کے جرمانہ کی سزا کا مستوجب ہوگا۔۳- زمیندار ۱۹ جنوری ۱۹۳۴ ء نے گوجر خان کے ایک جلسہ کا ذکر کیا کہ ”مولانا کی تقریر نے مسلمانان گو جر خان کی مردہ رگوں میں ایک نئی روح پھونک دی۔چنانچہ سب نے متفقہ طور پر عہد کیا کہ وہ آئندہ مرزائیوں سے کسی قسم کا تعلق نہ رکھیں گے"۔-۴- احسان ۱۹/ جنوری ۱۹۳۴ء میں موضع پر جہاں ضلع جالندھر کے ایک جلسہ کی روئید اد شائع ہوئی کہ "تمام حاضرین جلسہ نے متفقہ طور پر مرزائیوں کا مقاطعہ کرنے کے متعلق قرار داد منظور کی"۔۵۔جموں کی نسبت ۲۰/ جنوری ۱۹۳۴ء کے احسان میں چھپا۔شہر کے تمام مسلمانوں نے مرزائیوں سے سوشل بائیکاٹ کر دیا ہے۔۳۳۹- مکرم مولانا شیخ عبد القادر صاحب نے اپنے ایک مضمون میں لکھا ہے کہ اس زمانہ میں احرار ملک کے طول و عرض میں بڑے وسیع پیمانے پر جلسے کر رہے تھے ضلع لائلپور کے ایک شہر میں ان لوگوں نے ایک بہت بڑا جلسہ کیا۔ہزار ہا کی تعداد میں لوگ شامل ہوئے اور احمدیت کے خلاف خوب جی بھر کر گند اچھالا گیا۔اس شہر میں صرف پانچ بالغ احمدی تھے۔وہاں کے پولیس افسر نے مجھے بتایا کہ ایک روز چوہدری افضل حق صاحب ، مولوی حبیب الرحمن صاحب لدھیانوی اور سید عطاء اللہ شاہ صاحب بخاری مینوں لیڈر میرے پاس تشریف لے آئے میں ان کی عظمت کا بہت قائل تھا۔میں نے ان کی خوب آؤ بھگت کی۔مگر جب انہوں نے مجھے یہ کہا کہ یہاں کے پانچوں بالغ احمدیوں کو اس الزام میں گرفتار کر لو کہ انہوں نے ہمارے جلسہ میں گڑ بڑ ڈالنے کی کوشش کی ہے تو میں سخت حیران ہوا کیونکہ مقامی افسر ہونے کی وجہ سے میں جانتا تھا کہ وہ نہایت ہی شریف لوگ ہیں اور اپنے گھروں میں سر چھپا کر بیٹھے ہوئے ہیں مگر میں ان لیڈروں کی ہر دلعزیزی کی وجہ سے انہیں مایوس بھی نہ کر سکا۔اور بادل ناخواستہ معصوم اور بے گناہ احمدیوں کی گرفتاری کا حکم دے دیا۔مگر میں دل میں اس قدر شرمسار اور پریشان تھا کہ مجھے نہ دن کو چین آتا تھا نہ رات کو اور میں سوچتا تھا کہ یا اللہ یہ لوگ ہمارے مذہبی لیڈر ہیں جو سچ اور جھوٹ میں تمیز ہی نہیں کرتے چنانچہ میں اندر ہی اندر احمدیت کی سچائی کا قائل ہو گیا۔اور جب تھوڑے عرصہ کے بعد میرا وہاں سے تبادلہ ہوا۔تو دوسری جگہ پر پہنچتے ہی سب سے پہلا کام جو میں نے کیا وہ یہ تھا کہ حضرت امیر المومنین خلیفتہ المسیح الثانی کی خدمت میں بیعت کا خط لکھا اور جماعت میں شامل ہو گیا۔(رسالہ خالد ربوہ جنوری ۱۹۶۵ء صفحه ۲۹-۳۰) ٣٤٠ الفضل ۱۴ / فروری ۱۹۳۵ء صفحہ ۹ کالم ۲ ٣٤١ الفضل ۱۰/ مارچ ۱۹۳۵ء صفحہ ۴ کالم - ۳۲۲۔تفصیل کے لئے ملاحظہ ہو الفضل ۱۹۳۵ء۔۳۴۳ زمیندار ۲/ مئی ۱۹۳۵ء صفحه ۲ بحواله الفضل ۱۰/ مئی ۱۹۳۵ء صفحہ ۲ کالم ۱ ۳۴۴ الفضل ۷ / فروری ۱۹۳۵ء صفحه ۳ کالم ۲ ۳۴۵- سوانح حیات سید عطاء اللہ شاہ بخاری از خان کابلی صفحه ۱۰۰ ۳۴۶۔الفضل ۱۶ جنوری ۱۹۳۵ء صفحه ۸ کالم ۲-۳-