تاریخ احمدیت (جلد 6) — Page 552
۵۳۸ تاریخ احمد بیت - جلد 4 ۱۰۹ تاریخ احرار صفحه ۳۸ ايضا صفحه ۱۶۳ غلام احمد صاحب پرویز لکھتے ہیں کہ احراریوں کی بھی یہی ٹیکنیک ہوا کرتی تھی کہ جونہی کسی نے ان کی مخالفت کی انہوں نے شور مچا دیا کہ یہ میرزائی ہے اور جب وہ بےچار اچنچا چلایا کہ مجھے مرزائیت سے کوئی واسطہ نہیں تو کہہ دیا میرزائی نہیں تو میرزائی نواز ضرور ہے۔(مزاج شناس رسول صفحہ ۴۴۴- شائع کرده اداره طلوع اسلام کراچی) مولانا ان دنوں لندن میں بغرض تبلیغ اسلام مقیم تھے۔آپ نے اس خطہ کی نقل سید نا حضرت خلیفتہ المسیح الثانی کی خدمت میں بھجوادی تھی جو اب تک محفوظ ہے۔اہلحدیث کیکم جنور کی ۱۹۳۲ء صفحہ ۱۵ کالم ۱-۲- کشمیر صفحه ۱۲۵-۱۲۶( از جناب چراغ حسن حسرت) شائع کردہ قومی کتب خانہ ریلوے روڈ اشاعت اول ۱۵/ جنوری ۱۹۴۸ء- و ۱۱۵ تاریخ احرار صفحه ۴۲ کشمیر " ( از جناب چراغ حسن حسرت صفحه ۱۶۵) ۱۷ «کشمیر " صفحه ۴۲۵ ۱۱۸ تاریخ احرار صفحه ۷۹-۸۰ ۹ تاریخ احرار صفحه ۲۸۰۶۷ ۱۲۰ ۲۰/ جنوری ۱۹۳۲ء کو پہلا روزہ تھا۔۱۳ تاریخ احرار صفحه ۶۹-۷۰ ۱۲۲ تاریخ احرار صفحه ۷۴ ۱۲۳- تاریخ احرار صفحه ۸۱ ۱۳ تاریخ احرار صفحه ۸۰ تا ۰۸۴ ۱۲۵- احراریات مصنفہ (ڈاکٹر) علم الدین صفحه ۱ تا ۱۵ ۱۲۷۔جیسا کہ چوہدری افضل حق صاحب نے " تاریخ احرار " میں کھلے لفظوں میں اعتراف کیا ہے کہ ”ہندو کشمیر میں چند وجوہات سے اپنے آپ کو مسلمان سے برتر سمجھتا ہے۔راجپوتوں کا طبقہ ہے جو خون اور نسل کے اعتبار سے اپنے آپ کو حاکم گروہ تصور کرتا ہے دوسرا عام ہندو جو مسلمان سے چھوت کرنے کے باعث اپنے آپ کو فائق قیاس کرتا ہے اس لئے ہم نے تو اپنی طرف سے غریب عوام کے لئے جنگ لڑی ہے لیکن ریاست کا ہندو اپنے آپ کو عوام میں نہیں سمجھتا بلکہ حاکم گروہ کا جزو قیاس کرتا ہے اس لئے جب تک ہندو کے ذہن میں ایک بنیادی انقلاب نہ آجائے تب تک ریاست کشمیر میں عوام کا مسئلہ اور غریب کا سوال ہے ہم خوش ہیں کہ کشمیر میں حقیقی مسئلہ ہی مسلمانوں کا ہے صرف دو ہی مخاطب ہونے کا مستحق ہے۔وہاں غریب ہندو اس مزاج کا ہے کہ وہ مسلمانوں کو دبائے رکھنے میں فخر محسوس کرتا ہے۔( تاریخ احرار صفحہ ۸۴-۸۵) ۱۲۷ تاریخ احرار صفحه ۷۵ ۱۳۸- کشمیر صفحه ۱۶۸- ۱۲۹ سید عطاء اللہ شاہ صاحب بخاری کا عقیدہ تھا کہ اخباروں نے آغاز سے اب تک بڑے بڑے جھوٹ گھڑے ہیں اگر اس جھوٹ کا بوجھ ماؤنٹ ایورسٹ پر پڑ تاتو وہ بھی زمین میں دھنس چکی ہوتی۔(کتاب سید عطاء اللہ شاہ بخاری صفحه ۱۸ مولفه جناب آغا شورش کاشمیری ۱۳۰- وفات۔۔۔۔۔۔١٩٦٦ ع - ۱۳۱ تحریک کشمیر (لاہور۔اکتوبر ۱۹۳۱ء) سے اس غداری کا اصل سبب کیا تھا؟ اس بارے میں مولانا ظفر علی خاں صاحب کا مندرجہ ذیل قصیدہ کافی راہ نمائی کرتا ہے۔"مہاراجہ ہری سنگھ فرمانروائے کشمیر سے خطاب"