تاریخ احمدیت (جلد 6) — Page 551
تاریخ احمدیت جلد ۶ ۵۳۷ خلاف مسلمانوں کے افکار کو منظم کرنے میں سب سے پہلے کامیاب قدم اٹھایا۔۹۷ مولانا ظفر علی خاں صاحب کا مشہور شعر ہے۔۔ہندوؤں کو میں ملاتا ہوں مسلمانوں سے کانگریس کی میں سفارت بھی کیا کرتا ہوں۔ظفر علی خاں مولفہ جناب شورش کاشمیری) صفحہ ۱۹۷-۱۹۸ اسی طرح گاندھی جی کی شان میں فرماتے ہیں۔گاندھی نے آج جنگ کا اعلان کر دیا باطل ہندوستان میں ایک نئی روح پھونک کر آزادی تن حق کیا نثار خلافت کے نام پر سے حق کو دست و گریبان کر دیا حیات کا دیا سامان کر کچھ خدا کی راہ میں قربان کر دیا سب پروردگار نے کہ وہ ہے منزلت شناس گاندھی کو بھی یہ مرتبہ پہچان کر دیا (ایضاً صفحه ۱۹۳-۱۹۱) مولوی صاحب مذکور نے ۸/ اگست ۱۹۲۱ء کو راولپنڈی میں تقریر کی جس میں کہا۔میں وہی کر رہا ہوں جو ملک اور گاندھی بتا رہے ہیں یہ اخلاقی قوت ان بزرگوں کی ہی کام کر رہی ہے یہ راز ساری اس شوریدہ سری کا ہے جس کو انگریز نہیں جانتے۔پھر ہندو مسلم نام نہاد اتحاد کے سلسلہ میں کہا۔پانچ سال پہلے اس اتحاد کا وہم و گمان بھی نہ تھا ہندو اور مسلمانوں کو گاندھی لالہ لاجپت رائے مانوی جی موتی لال نہرو کے متعلق خیال ہے کہ یہ ان کی کوششوں کا نتیجہ ہے۔مگر کیا یہ پہلے نہ تھے کیا یہ قوت ان میں پہلے موجود نہ تھی میں کہتا ہوں کہ یہ آسمانی قوت ہے اب ہندو مسلمانوں میں تفرقہ نہیں پڑ سکتا ہندوؤں نے مہاتما گاندھی نے پڑے مسلمانوں پر جو احسان کئے ہیں ان کا عوض ہم نہیں دے سکتے۔ہمارے پاس زر نہیں ہے جب جان چاہیں ہم حاضر ہیں۔تقاریر مولانا ظفر علی خاں صفحہ ۵۹-۶) ۹۸ زمیندار ۲ / ربیع الاول ۱۳۴۷ھ بمطابق ۲۳/ اگست ۶۱۹۲۸ ۹۹ سوانح حیات سید عطاء اللہ شاہ بخاری صفحه ۲۵ از خان کابلی صاحب) 100 سوانح حیات سید عطاء اللہ شاہ بخاری صفحه ۹ ( مصفنه خان کابلی) 101 الفضل ۷ ۲ / جون ۱۹۳۱ء صفحہ ۷ کالم ۱-۲- ۱۰۲۔تفصیل تاریخ احمدیت جدید جلد پنجم میں گزر چکی ہے۔۱۰۳- سید عطاء اللہ شاہ بخاری چوہدری افضل حق صاحب کو ہمیشہ مہاتما جی کہا کرتے تھے جس کی وجہ شاہ جی کے سوانح نولیس نے یہ لکھی ہے جس طرح کانگریس میں مہاتما جی کا کوئی عہدہ نہیں لیکن اس کے باوجود کانگریس کا پروگرام انہی کی رائے سے متعین ہوتا ہے اسی طرح مجلس احرار میں چودھری افضل حق صاحب کی بظاہر کوئی حیثیت نہیں لیکن وہی درجہ ہے جو کانگریس میں مہاتما جی کا ہے۔(سوانح حیات سید عطاء اللہ شاہ بخاری صفحه ۷۰- از خان کابلی ۱۰۴ آل انڈیا کشمیر کمیٹی کے قیام کی طرف اشارہ ہے۔۱۰۵- یادر ہے ان خانہ بہاد روسا اور امراء کے سرخیل علامہ ڈاکٹر محمد اقبال صاحب تھے۔علامہ ۱۰۶ تاریخ احراز صفحه ۳۷ ۱۰۷- سیرت ثنائی (مولفہ عبدالمجید صاحب سوہدروی) میں ان کی نسبت لکھا ہے آپ طبعا سیاسیات کی طرف زیادہ مائل ہیں پہلے احرار میں کام کرتے رہے پھر جمعیتہ علمائے ہند میں گئے۔پھر کانگریس کے سیکرٹری بنے۔الخ (صفحہ ۳۶۳ حاشیہ) یہ واقعہ اس زمانے کا ہے جبکہ آپ کا نگریس کے سرگرم کارکنوں میں تھے۔۱۸- سمو کتابت ہے اصل داؤر ہے۔