تاریخ احمدیت (جلد 6)

by Other Authors

Page 541 of 619

تاریخ احمدیت (جلد 6) — Page 541

تاریخ احمدیت جلد ۶ ہیں۔۵۲۷ مران تمام سیاسی حربوں کے باوجود احرار کو شکست فاش ہوئی اور صوبہ پنجاب کے کسی حلقہ میں بھی ان کا کوئی امیدوار کامیاب نہ ہو سکا۔اور تو اور بٹالہ کے حلقہ میں ” آٹھ کروڑ مسلمانوں کی نمائندگی " کا ادعا کرنے والوں اور فاتح قادیان " کہلانے والوں کو احمدی امیدوار (چودھری فتح محمد صاحب سیال) سے بھی کم ووٹ ملے امر تسر کو احرار اپنا مرکز سمجھتے تھے مگر اس میں ان کو منہ کی کھانا پڑی۔حتی کہ چودھری افضل حق صاحب جیسے جوڑ توڑ کے آدمی جن کے ذریعہ سے احرار نے ایک طرف پنجاب کے ہندوؤں اور سکھوں سے اور دوسری طرف سر سکندر حیات خان کے حامیوں سے معاہدہ (PACT) کیا تھا اور جو احرار کی انتخابی مہم کے لیڈر تھے اپنے ہی علاقہ گڑھ شکر میں ہار گئے۔سلام سلام چنانچہ خودہی " تاریخ احرار " میں لکھتے ہیں۔" میرا حلقہ انتخاب سر سکندر اور اس کے ساتھیوں کی توجہ کا مرکز رہا۔میرے حلقہ انتخاب میں سرگرمی رہی۔میرے علاقہ کے امراء غیر راجپوت مجھ سے زیادہ خوش نہ تھے۔انہیں یہ اندیشہ ہوا کہ راجپوت قوم کا پہلے ہی زیادہ اثر ہے اگر یہ اس دفعہ کامیاب ہو گیا تو تاید حکومت پر قبضہ جما بیٹھے۔اس لئے راجپوتوں کا اقتدار اور بڑھ جائے گا۔۔۔۔سر سکندرحیات خان نے لوگوں کو بڑے سبز باغ دکھائے۔ہر نوجوان یہ سمجھتا کہ افضل حق کو نیچار کھایا تو ڈپٹی ہوئے۔علاوہ ازیں اعلیٰ ادنیٰ ہر ملازم کو خیال تھا اور بر ملا حو صلہ افزائی ہوتی تھی کہ افضل حق سرکار کا دشمن اور اس کا ساتھی حکومت کا باغی سمجھا جائے گا کیونکہ وہ دیکھتے تھے کہ سر سکندر خود افضل حق کے خلاف دوڑا بھاگا پھرتا ہے۔میری شکست کی سب سے موثر وجہ یہ ہوئی کہ لاہور کے لولے لنگڑوں کو مولانا ظفر علی خان اور مولانا عبد القادر ، ڈاکٹر محمد عالم کی جماعت اتحاد ملت نے اس غرض سے بھیجا تاکہ وہ علاقہ میں پھر کر لوگوں میں یہ پروپیگنڈا کریں کہ افضل حق نے مسجد شہید گنج گردائی اور اس نے خود کھڑے ہو کر مسلمانوں پر گولی چلوائی۔دیکھو اسی ظالم نے گولی چلوا کر ہمیں لولا لنگڑا کر دیا۔وہ درد ناک لفظوں میں اپیل کرتے تھے۔ایک دو پولنگ سٹیشنوں پر اس کا بہت برا اثر ہوا۔ایک عام آگ سی لگ گئی۔اسی طرح مجھے اس حلقہ سے شکست ہوئی۔جہاں سے مجھے شکست کی امید نہ تھی۔میری شکست یونینسٹ پارٹی کی بہت بڑی فتح تھی کیونکہ میں انتخابی مہم کالیڈر تھا "- En الیکشن ختم ہوا تو مولوی ثناء اللہ صاحب امرتسری نے احرار کے امیدوار ناکام“ کے عنوان سے اہلحدیث " (۱۹-۲۶ / فروری ۱۹۳۷ء صفحہ ۲۷-۲۸) پر یہ تبصرہ شائع کیا۔