تاریخ احمدیت (جلد 6)

by Other Authors

Page 531 of 619

تاریخ احمدیت (جلد 6) — Page 531

تاریخ احمدیت۔جلد ؟ ۵۱۷ چاہتے ہیں۔احرار کے بیان نے اس کی تصدیق پر مر کر دی۔یہ ظاہر ہے کہ جو لوگ علی الاعلان مسجد شہید گنج کو قربان کر سکتے ہیں وہ آئندہ بھی ہر مسلم مفاد بلکہ مذہب کو بھی اغیار پر قربان کر سکتے ہیں"۔۔رسالہ "اسلامی دنیا" (دہلی) ۴- دہلی کے رسالہ "اسلامی دنیا" (بابت ماہ جولائی ۱۹۳۵ء) نے لکھا۔مجلس احرار نے تو مسجد شہید گنج کے معاملہ میں مسلمانوں کے ساتھ غداری کی انتہا کر دی۔عین اس وقت جب مسلمانوں کی قربانیوں کے نتائج بر آمد ہونے والے تھے۔مجلس احرار نے اپنے طرز عمل سے مسلمانوں میں افتراق پیدا کر دیا اور افتراق پیدا کر دینے کے بعد ان سکھوں کے بازو مضبوط کر دیئے جنہوں نے مسجد شہید گنج کو مسمار کر کے ہندوستان کے دس کروڑ مسلمانوں کے دلوں کو زخمی کر دیا۔مجلس احرار جیسی افتراق انگیز انجمنوں نے ہمیشہ مسلمانوں کو نقصان پہنچایا ہے۔ایسے ہی غداروں کے ہاتھوں مسلمان ذلیل ہوئے ہیں۔مجلس احرار کی اس غدارانہ روش کے بعد مسلمانوں کو معلوم ہو گیا کہ عطاء اللہ شاہ بخاری کی مجلس احرار ان کو فیوں سے زیادہ حیثیت نہیں رکھتی جنہوں نے آل رسول کو اور عاشقان اسلام کو بلا کر یزید کے ہاتھوں شہید کر دیا تھا۔مجلس احرار کی حکومت پرستی اور سکھ دوستی کو دیکھتے ہوئے ہم ہندوستان کے نوجوانوں سے کہتے ہیں کہ خدا کے لئے وہ اٹھیں اور ان لیڈروں کی لیڈری کا پردہ چاک کردیں اور ان کو پلیٹ فارم سے نیچے گرا دیں۔جو اسلام کو سربازار نیلام کر رہے ہیں۔ہمارے نزدیک غدار لیڈروں اور افتراق انگیز راہنماؤں کے اقتدار کو ختم کر دینا سب سے بڑی اسلام دوستی اور قوم پرستی ہے۔مجلس احرار کے نزدیک نعوذ باللہ خانہ خدا اور قمار خانہ میں کوئی فرق نہیں۔ان غداروں کے نقطہ خیال سے اگر خانہ کعبہ پر بھی مسجد شہید گنج کی طرح کسی کا غاصبانہ قبضہ ہو جائے اور وہ اسے ڈھارے تو مسلمانوں کو خاموش رہنا چاہئے۔جہاں تک مسلمانوں کا تعلق ہے ان کے لئے تو ایسے نازک وقت میں خاموش رہنا نا ممکن ہے۔البتہ مجلس احرار جو کہ سکھوں اور حکومت کے ہاتھوں کی ہوئی ہے۔ضرور خاموش رہ سکتی ہے۔عطاء اللہ شاہ بخاری اور ان کی مجلس احرار کے نزدیک مسجد کی شہادت بے معنی ہے لیکن ان لوگوں کے گھروں کو سکھوں نے کھود کر پھینک دیا ہو تا تو دنیا دیکھ لیتی کہ ان کی رواداری کس قدر طوفان برپا کرتی۔مجلس احرار کو معلوم ہونا چاہئے کہ ایک مجلس احرار نہیں۔اگر دس مجلس احرار بھی سکھوں کی پشت پناہی کے لئے کھڑی ہو جائیں گی تو مسلمان خاموش ہونے والے نہیں۔مسلمان مسجد شہید گنج کو واپس لیں گے اور ضرور لیں گے اور انشاء اللہ آئینی جدوجہد میں رہتے ہوئے اس وقت تک جنگ