تاریخ احمدیت (جلد 6) — Page 530
۵۱۶ تاریخ احمدیت۔جلد ۲ معصوم سنگدل مسلمان کو بھی میدان میں آکر بے گناہ جانوں کے تحفظ کی بے دریغ کوشش میں منہمک ہو جانا چاہئے تھا۔تمہیں ظفر علی سے اختلاف تھا۔تمہیں سید حبیب سے اختلاف ہو گا لیکن ان نوجوانوں سے کیا اختلاف تھا۔جنہوں نے جوش تہور میں گریبان پھاڑ پھاڑ کر فوج کی گولیاں اپنے سینوں پر کھائیں۔یاد رکھو تمہاری تمام ریاضتیں اور عبادتیں تمہارے تمام اشتہارات و اعلانات اور تمہاری تمام دردمندانه تقریریں اور اپلیں خون شہید کے ایک قطرے کے سامنے بیچ ہیں۔۲۰ او ر ۲۱/ جولائی کو دہلی دروازہ کے باہر جو خون بہایا گیا ہے اس کے ذمہ دار تم ہو اور اس خون کے ایک ایک قطرے کا حساب تمہیں دینا ہو گا۔عطاء اللہ شاہ بخاری کی آتش بیانی اور حبیب الرحمن کی خطابت بے کار ہے تم "مجاہد " جاری کردیا لاہور کی دیواروں کو اپنے نامہ اعمال کی طرح اشتہارات سے سیاہ کر دو تمہارے دامن سے خون بے گناہ کے دھبے نہیں مٹ سکتے اور آئندہ نسلیں تمہیں انہی لفظوں میں یاد کریں گی جن لفظوں میں ہم آج میر جعفر (غدار بنگال محمد صادق (غدار سرنگا پٹم) اور ابراهیم گاروی ندار پانی پت) کو یاد کرتے ہیں۔کو نسل کی ممبری کے جن دلکش خوابوں نے تمہیں مسحور کر رکھا ہے ان کی تعبیر بھی یہی روسیاہی و خجالت ہے جو آج تمہارے حصہ میں آگئی ہے۔مسلمان ہزار سادہ لوح سہی لیکن تمہارا جادو اب ہمیشہ کے لئے ختم ہو چکا۔تمہارے باطن کی سیاہی الم نشرح ہو چکی اور اب تمہاری عافیت اسی میں ہے کہ خود بخود قیادت کے منصب بلند سے علیحدہ ہو کر کوئی اور ذریعہ معاش تلاش کرو ور نہ قدرت کا ہاتھ جب انتقام کے لئے بلند ہوا تو یا درکھو ہمیشہ ہمیشہ کے لئے مٹ جاؤ گے "۔اخبار الامان" دہلی CTI -۳- اخبار الامان " دہلی نے اپنے ۲۸ / جولائی ۱۹۳۵ء کے پرچہ میں لکھا۔لاہور میں روز ایک قیامت برپا ہوتی رہی اور شب و روز مسلمان بے چین و بے قرار رہے لیکن ان لوگوں نے مشورہ عالی سے عوام کو مطلع نہ کیا جبکہ گولیاں چل چکیں۔لاٹھی چارج اچھی طرح ہو گیا۔بہت سے مسلمان زخمی اور شہید بھی ہو گئے۔صدہا گرفتار بھی ہو چکے اور سزائیں بھی پاچکے تو احراری سور ما میدان میں آئے اور ایک بیان شائع کیا جس کا مقصد ظاہر تو یہ ہے کہ سول نافرمانی نہ کی جائے لیکن به باطن اول سے آخر تک سکھوں کی حمایت و تائید ہے۔۔۔اس بیان پر مولوی حبیب الرحمن سید عطاء اللہ شاہ بخاری، مولوی داؤد غزنوی، مولوی مظہر علی اظہر چودھری افضل حق ، شیخ حسام الدین اور ماسٹر محمد شفیع کے دستخط ہیں۔یہ عرصہ سے مشہور ہو رہا تھا کہ احرار کی پشت پر بعض ایسے حکومت پرست سرکاری مسلمانوں کا ہاتھ ہے جو اپنی وزارت و اغراض کی خاطر ہندوؤں اور سکھوں سے سازباز کر رہے ہیں اور مسلم اکثریت کے مفاد کو ہندو سکھوں کے قدموں میں اپنے ذاتی مفاد کی خاطر قربان کرنا