تاریخ احمدیت (جلد 6) — Page 36
تاریخ احمدیت جلد ۶ پہلا باب (فصل دوم) اس زمانے میں مخالفین احمدیت اور احمدیوں میں مقدمات کا سلسلہ جاری تھا۔مقدمہ بہاولپور مثلاً مقدمہ شاہجہانپور (یو پی) برہمن بڑیہ (بنگال) اور بن باجوہ (ضلع سیالکوٹ) کے امراء جماعت کے مقدمات۔مگر سب سے زیادہ تکلیف دہ مقدمہ بہاولپور میں دائر تھا جس نے بعد کو قومی مقدمہ کی حیثیت اختیار کرلی تھی۔اس اجمال کی تفصیل یہ ہے کہ احمد پور شرقیہ کے ایک شخص الہی بخش صاحب نے اپنی بیٹی مسمات غلام فاطمہ کا نکاح عبد الرزاق صاحب (ساکن موضع مهمند تحصیل احمد پور شرقیہ) سے کیا۔عبد الرزاق صاحب احمدی ہو گئے تو الٹی بخش صاحب نے علماء کی نصیحت سے ۲۴/ جولائی ۱۹۲۶ء کو ریاست بہاول پور میں تنسیخ نکاح کا مقدمہ دائر کر دیا۔کہ مدعیہ اب تک نابالغ رہی ہے اب عرصہ دو سال سے بالغ ہوئی ہے مدعاعلیہ نا کی مدعیہ نے مذہب اہلسنت والجماعت ترک کر کے قادیانی مرزائی مذہب اختیار کر لیا ہے اور اس وجہ سے وہ مرتد ہو گیا ہے اس کے مرتد ہو جانے کے باعث مدعیہ اب اس کی منکوحہ نہیں رہی۔Ar ڈسٹرکٹ جج نے سماعت کے بعد ۲۱ / نومبر ۱۹۲۸ء کو ڈسٹرکٹ عدالت سے مقدمہ خارج یہ دعوی اس بناء پر خارج کر دیا کہ عدالت عالیہ چیف کورٹ بہاولپور سے اس قسم کے ایک مقدمہ بعنوان مسماۃ جندر ڈی بنام کریم بخش میں باتباع فیصلہ جات عدالتہائے اعلیٰ پدر اس پٹنہ وہ پنجاب یہ قرار دیا جاچکا ہے کہ احمدی مسلمانوں کا ایک فرقہ ہیں نہ کہ اسلام سے باہر اور کہ احمدی مذہب اختیار کرنے سے کسی سنی عورت کا نکاح اس شخص کے ساتھ جو اس مذہب کو قبول کرے فسخ نہیں ہو جاتا اور کہ مدعیہ کی طرف سے ان فیصلہ جات کے خلاف کوئی سند پیش نہیں کی گئی۔ڈسٹرکٹ حج کا یہ حکم عدالت عالیہ چیف کورٹ میں بھی بحال رہا۔۸۵ دربار معلیٰ میں اپیل فریق ثانی نے اس فیصلہ کے خلاف ریاست بہاولپور کی آخر عدالت ترکیبی یہ تھی۔دربار معلی میں اپیل ثانی دائر کر دی۔اس دربار کی ان دنوں ہیئت ا وزیر اعلی ۲- وزیر حضوری ۳- وزیر مال (ایک انگریزی - ایچ ٹونشن) ۴- ہوم ممبر-