تاریخ احمدیت (جلد 6)

by Other Authors

Page 510 of 619

تاریخ احمدیت (جلد 6) — Page 510

تاریخ احمدیت جلد ۶ ۴۹۶ خلیفتہ المسیح الثانی کا بیان ہے کہ ایک ڈپٹی کمشنر نے ہمارے ایک دوست کو جو اس کا بھی دوست تھا اس کی اطلاع دے دی کہ ایسی چٹھی آئی ہے کہ جماعت احمدیہ اب خراب ہو گئی ہے اس کا خیال رکھا جائے مگر جب ہم نے گورنمنٹ سے اس بارے میں دریافت کیا تو اس نے انکار کر دیا کہ ایسا کوئی سرکلر نہیں گیا۔مگر خدا تعالیٰ جب پکڑتا ہے تو ایسا پکڑتا ہے کہ کوئی جواب نہیں بن پڑتا۔اس نے ہمارے لئے یہ سامان کر دیا کہ راولپنڈی کے ایک تھانہ کی پولیس کا ایک ہیڈ کانسٹیبل ایک احمد یہ جماعت کے ہاں گیا اور کہا کہ جن لوگوں نے قادیان جاتا ہے۔۔۔وہ اپنے نام لکھوائیں۔حکومت کی طرف سے یہ ہدایت آئی ہے کہ جو لوگ قادیان جانا چاہیں ان کی نگرانی کی جائے۔۔۔اس جماعت نے مجھے اس کی اطلاع دی اور ہم نے حکومت کو لکھا کہ اب بتاؤ اس کا کیا جواب ہے ؟ مگر اس کا کوئی جواب اس کے پاس نہ تھا۔وہ صرف یہ کہتے رہے کہ ہم نے کوئی ایسا آرڈر نہیں دیا اور آخر میں کہا کہ آپ اس معاملہ میں زیادہ زور نہ دیں اور بات کو ختم کر دیں۔ہم نے اس بارہ میں ضلع میں بھی تحقیق کی اور معلوم ہوا کہ اس تھانہ میں خفیہ آرڈر آیا تھا تھانیدار اتفاق سے چھٹی پر تھا اور حوالدار انچارج تھا۔وہ شراب کا عادی تھا اور نشہ کی حالت میں تھا ہدایت پر کانفیڈنشل لکھا ہوا تھا۔لیکن اس نے نشہ کی حالت میں اس کا خیال نہ کیا اور جھٹ پر دانہ لے کر وہاں جا پہنچا۔آخر جب ہم نے بار بار اس کا جواب مانگا۔تو چیف سیکرٹری نے کہا کہ بس اب اس بات کو چھوڑ دیں زیادہ تنگ نہ کریں اور اب اس سوال کا جواب نہ مانگیں تو اللہ تعالیٰ نے اس زمانہ میں ہماری ایسی مدد فرمائی کہ بار بار حکومت کو اپنی غلطی تسلیم کرنی پڑی " - 121 مجلس مشاورت ۱۹۳۵ء میں فتنہ انگیزی ۲۱ ۲۲ ۱۲۳ اپریل ۱۹۳۵ء کو جماعت احمدیہ کی مجلس مشاورت تھی۔اس موقعہ پر مخالفین نے اپنی سرگرمیوں کا مرکز ایک ایسی مسجد بنالی جو احمدیوں کی گزرگاہ تھی اور جس کے ارد گرد احمدیوں کے بکثرت مکان تھے۔مشاورت کے ایام میں ایک امرتسری مولوی نے اسی مسجد میں سخت ولازار تقریر کی۔جس میں غلط بیانی کرتے ہوئے یہاں تک کہا کہ مرزائی منارۃ المسیح پر چڑھ کر روزانہ کہتے ہیں ”ا شهدان مرزا رسول الله"۔پولیس نے ایک بہت بڑی جمعیت اس جگہ مقرر کر دی جو ان لوگوں کے لئے خاص طور پر تقویت کا موجب ہوئی۔1 نضرت خلیفتہ المسیح الثانی کی طرف سے ہندوستان کے مسلمان سیاسی لیڈ رابھی تک بظاہر PAL [CAT] خاموشی اختیار کئے ہوئے تھے بلکہ ان کا کثیر حصہ دشمنوں کی ناکامی کی حیرت انگیز پیشگوئی یہ اپلیں کر رہا تھا کہ ہمیں فتنہ و فساد اور