تاریخ احمدیت (جلد 6) — Page 475
تاریخ احمدیت۔جلد ؟ گورنمنٹ پنجاب " - 2 حضرت امیر المومنین "کا باطل شکن جوا۔حضور نے اس حکم نامہ پر حسب ذیل جواب مجسٹریٹ کو لکھ کر دے دیا۔مجھے گورنمنٹ کے حکم سے اطلاع ہوئی اور میں اپنے مذہب کے حکم اور سلسلہ کی روایات کی وجہ سے اس کی تعمیل کرنے پر مجبور ہوں ورنہ یہ حکم ایسا غیر منصفانہ اور نا جائز ہے کہ ایک شریف آدمی کے لئے یہ سمجھنا بھی مشکل ہے کہ ایک مہذب حکومت ایسا حکم کس طرح جاری کر سکتی ہے ؟ حقیقت یہ ہے کہ میں نے اس فتنہ کو دیکھ کر کہ احرار قادیان میں ایک جلسہ کر رہے ہیں اور وہ علی الاعلان سلسلہ احمدیہ کو نقصان پہنچانا چاہتے ہیں ایک ہدایت دی تھی کہ جماعت احمدیہ کے کچھ لوگ سلسلہ کے مقدس مقامات کی حفاظت کے لئے جمع کر لئے جائیں۔لیکن اس ہدایت کے جاری کرنے کے دو گھنٹہ بعد مرزا معراج الدین صاحب ہی۔آئی ڈی میرے پاس آئے۔اور میں نے خود ان کو اس ہدایت سے اطلاع دی اور انہوں نے کہا کہ میں پورا انتظام پولیس کا کرادوں گا۔اس لئے آپ آدمی نہ بلوائیں اور ان کے کہنے کے مطابق اس ہدایت کا جاری کرنا منسوخ کر دیا گیا۔اس کے بعد مجھے معلوم ہوا کہ ایک ایسی ہدایت جماعت کے کسی افسر نے بغیر میرے مشورہ کے پہلے سے جاری کی ہوئی ہے اور اسے بھی منسوخ کر کے جماعتوں کو ہدایت کر دی گئی کہ وہ آدمی نہ بھیجیں۔میں کل فیروز پور گیا تھا مجھ سے راستہ میں بعض احمدیوں نے پوچھا کہ کیا انہیں احرار کے جلسہ پر قادیان آنے کی اجازت ہے اور میں نے انہیں اس سے منع کیا۔حکومت سے ایسے تعاون کرنے کے بعد اس قسم کے حکم کا بھجوا دینا حکومت کے وقار کو کھوتا ہے اور حکومت کی مضبوطی نہیں بلکہ کمزوری کا موجب ہے اور مجھے افسوس ہے کہ حکومت نے اس قسم کے حکم کو جاری کر کے اس اعتماد کو نقصان پہنچایا ہے جو اس پر ملک معظم اور ان کی حکومت نے کیا تھا بہر حال چونکہ میرا مذ ہب مجھے وفاداری اور اطاعت کا حکم دیتا ہے میں اس حکم کی جس کی غرض سوائے تذلیل اور تحقیر کے کچھ نہیں پابندی کروں گا اور انشاء اللہ پوری طرح اس کی تعمیل کروں گا۔باقی اس حکم کی نسبت آئندہ نسلیں خود فیصلہ کریں گی کہ اس کے دینے والے حق پر تھے یا نہ تھے۔وافوض امرى الى الله وهو احكم الحاكمين۔خاکسار مرزا محمود احمد " - 0 ادھر حکومت پنجاب احرار تبلیغ کانفرنس " کے لئے پولیس کی بھاری جمعیت نے حضرت علینہ المسیح الثانی کو یہ ظالمانہ اور جابرانہ نوٹس دیا۔ادھر احرار کا نفرنس کے لئے پولیس کی ایک بھاری جمعیت بھیجوا دی چنانچہ اخبار " "سمین" (STETESMAN) نے ۲۱ / اکتوبر ۱۹۳۴ء کے پرچہ میں لکھا۔1