تاریخ احمدیت (جلد 6)

by Other Authors

Page 457 of 619

تاریخ احمدیت (جلد 6) — Page 457

تاریخ احمدیت جلد ۶ ۴۴۳ تھے ان کا بیان ہے کہ اس موقعہ پر مجسٹریٹ صاحب نے ہیڈ کانسٹیبل سے پوچھا کہ کون کون احمدی وہاں تھے اور اس نے اوپر بیان شدہ دو آدمیوں کا ہی نام لیا اور تعلیم کیا کہ ان میں سے نمبردار پہلے وہاں موجود نہ تھا ہیڈ کانٹیبل اسے خود ساتھ لے گیا تھا۔پس پولیس کے آنے سے پہلے صرف میونسپل کمیٹی کے کلرک کا وہاں ہونا ثابت ہوا۔اب اس ایک شخص کا وہاں اتفاقا کھڑا ہو نا احمدیوں کا فساد بن گیا۔گویا اس ایک شخص میں فوجوں کی طاقت جمع تھی کہ اسے احرار کا سر کچلنے کے لئے احمدی جماعت نے وہاں بھیجوایا تھا مگر مجسٹریٹ صاحب نے اس بیان سے تسلی نہیں پائی۔کہا جاتا ہے کہ انہوں نے بار بار ہیڈ کا نشیبل سے کہا کہ ارے یہ احراری لوگ تو کہتے ہیں کہ بہت سے احمدی تھے کیا یہ یو نہی نام لیتے ہیں بتا کون کون لوگ تھے۔مگر اس پر بھی اس نے یہی کہا کہ یہی دو احمدی تھے جن کا میں نے ذکر کیا ہے اس تحقیق کے بعد مجسٹریٹ نے کہا جاتا ہے کہ یہ فیصلہ کیا کہ سفومیاں ہیڈ کانسٹیبل ! یہاں مسجد میں کوئی احمدی داخل نہ ہو اگر کوئی وضو یا نہانے کے لئے بھی آئے تو اسے وہیں ہتھکڑی لگا لو۔دیکھو نا خواہ کتنی بھی بڑی حیثیت کا احمدی ہو اسے ہتھکڑی لگا لینا پھر میں دیکھ لوں گا۔اس سے مراد سوائے خلیفہ کے یا نا ظمروں کے اور کون ہو سکتا ہے ؟ مگر کیا پچھلی ہسٹری بتاتی ہے کہ ان کی مسجدوں میں کبھی خلیفہ گیا۔اگر نہیں تو سوائے اس کے کہ جماعت احمدیہ کی بلاو جدل آزاری کی جائے ان الفاظ کا اور کیا مطلب تھا۔جہاں مجسٹریٹ کسی کی ہتک کرتے ہوں وہاں لوگوں کے اخلاق کہاں درست رہ سکتے ہیں۔پھر اگر بڑی سے بڑی حیثیت سے مراد جماعت کا خلیفہ نہیں تو کیا ناظر مراد ہیں؟ مگر کیا کوئی ثابت کر سکتا ہے کہ وہاں ناظر جایا کرتے ہیں یا نائب نا ظر جایا کرتے ہیں یا نائب ناظر نہ کی مختلف صیغوں کے انچارج ہی وہاں جایا کرتے ہیں اگر وہ بتا دیں گے تو ہم ان کا حق سمجھ لیں گے کہ انہوں نے جو کچھ کہا درست کہا لیکن اگر ہمارے چھوٹے چھوٹے افسر بھی ان کی مسجدوں پر قبضہ کرنے کے جرم کے کبھی مرتکب نہیں ہوئے تو اسے احمدیوں کا حملہ قرار دینا اور کہنا کہ اگر بڑی سے بڑی حیثیت کا احمدی بھی آجائے تو اسے ہتھکڑی لگا لو سوائے دلازاری کے اور کیا مطلب رکھتا ہے۔۔گورنمنٹ کو اس واقعہ کی اطلاع دے دی گئی یعنی ڈپٹی کمشنر صاحب کو تفصیلی حالات لکھ دیئے گئے مگر انہوں نے کوئی کارروائی نہیں کی۔حالانکہ اس واقعہ میں ہیڈ کانسٹیبل کی بھی شرارت تھی کہ اس نے بلا وجہ احمدیوں کو ملوث کیا اور جھوٹی تار دی۔جو خود ایک جیوم ہے اور مجسٹریٹ کی بھی غلطی تھی کہ اس نے جماعت احمدیہ کی بہتک کی اور مسجد سے لوگوں کو روکا جس کا اسے کوئی حق نہیں پہنچتا۔کئی ہائی کورٹ مساجد کے متعلق واضح فیصلے کر چکے ہیں پھر ان کے خلاف حکم دینے کا مجسٹریٹ کو کہاں سے حق پیدا ہو گیا تھا۔مگر اسے بھی کوئی سرزنش نہیں ہوئی جس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ اس ہتک میں بعض اعلیٰ حکام کا ہاتھ تھا۔