تاریخ احمدیت (جلد 6)

by Other Authors

Page 453 of 619

تاریخ احمدیت (جلد 6) — Page 453

تاریخ احمدیت۔جلد ۶ ۴۳۹ اب اگر یہ رپورٹ درست ہے تو سمجھ لو کہ ہمارے لئے کس قدر مشکلات پیدا کر دی گئی ہیں۔کیونکہ اس کے یہ معنے ہیں کہ اگر کوئی احمدی ہمارے حق میں شہادت دے تو اسے یہ کہ کر رد کر دیا جائے گا کہ یہ احمدی ہے اور جھوٹ بولتا ہے۔اگر غیر احمدی ہمارے حق میں شہادت دے تو یہ کہا جائے گا کہ اسے احمدیوں نے ورغلا لیا ہے گویا ہمارے معاملہ میں صرف وہی گواہی سچی سمجھی جائے گی کہ جو ہمارے خلاف ہو۔ان حالات میں ہمارے لئے اپنی عزت کی حفاظت کے لئے کیا صورت رہ جاتی ہے اور ہمارے لئے انصاف پانے کا کونسا ذریعہ باقی رہ جاتا ہے۔لطیفہ یہ ہے کہ ابھی چند ماہ ہوئے ہائیکورٹ میں ایک مقدمہ پیش تھا۔حج صاحب ایک انگریز تھے ان کے سامنے ایک فریق کے وکیل نے کہا کہ صاحب دو سرا فریق احمدی ہے اور گواہ بھی احمدی ہیں اس پر منصف مزاج جج نے اس کو اس دلیل کے پیش کرنے سے روک دیا کہ مسلمانوں کے مقدمہ میں مسلمانوں کی اور ہندوؤں کے مقدمہ میں ہندوؤں کی گواہی سنی جاتی ہے تو احمدیوں کے مقدمہ میں احمدیوں کی گواہی کیوں قبول نہ کی جائے گی۔دوبارہ پھر اس امر کی طرف اشارہ کرنے پر فاضل جج نے کہا کہ میں نے مسل کا مطالعہ کیا ہے اور میرے نزدیک احمدی گواہوں نے عام گواہوں سے زیادہ بچی گواہی دی ہے اس لئے میں اس دلیل کو سننے کے لئے تیار نہیں۔حکومت کا عدالتی حصہ یہ رویہ اختیار کرتا ہے اور انتظامی وہ جو اوپر بیان ہوا۔ع۔ع میں تفاوت راه از کجاست تا به کجا جب گورنمنٹ کی طرف سے ہم پر اتنی مہربانیاں ہو رہی تھیں کہ کہیں تعمیر مسجد کا پانچواں واقعہ شاخسانہ کھڑا کر کے ہم پر یہ الزام لگایا جارہا تھا کہ ہم نے احراریوں پر حملہ کیا۔کہیں پھاٹک کا واقعہ پیش کر کے بتایا جاتا تھا کہ احمدیوں نے سڑکیں روک لیں کہیں جلسہ غیر احمدیوں کے موقعہ پر رپورٹ کی جاتی تھی کہ ہزاروں خون ہونے کا احتمال تھا۔کہیں ڈاک خانہ کے بابو کے فرائض منصبی میں رکاوٹ ڈالنے کا الزام ہم پر عائد کیا جاتا تھا اس وقت ایک ذمہ دار پولیس افسر نے مجھ سے بھی اور بعض دیگر کارکنان جماعت سے کہا کہ حکومت ہم سے پوچھتی ہے کہ کیوں احمدیوں کی اس قدر رعایت کی جاتی ہے۔کیوں یہاں تعزیری چو کی مقرر کرنے کی سفارش نہیں کی جاتی۔کوئی بتائے کہ آج تک کہیں بھی ایسا ہوا ہے کہ کسی نے سمال ٹاؤن کمیٹی کے قانون کی خلاف ورزی کرتے ہوئے عمارت تعمیر کرنی شروع کر دی ہو کسی نے قانون شکنی کر کے دوسرے فریق کو دق کرایا ہو اور دھمکی پر امن فریق کو دی جائے کہ تم پر تعزیری چو کی قائم کرنے کا حکومت کو خیال ہے۔چھٹا واقعہ چھٹا واقعہ اس اندھیر گردی کا یہ ہے کہ کسی نے جھوٹی رپورٹ کر دی کہ بعض احمد یوں نے سکھوں کے ایک گاؤں میں جاکر کہا ہے کہ حضرت باوا نانک علیہ الرحمتہ گائے کا