تاریخ احمدیت (جلد 6) — Page 24
تاریخ احمد بیت - جلد ؟ تھا بلکہ اس پر بحث کرنی چاہئے کہ ہمارے مدعا کے حاصل کرنے کے لئے کو نسا ذ ریعہ مفید ہو سکتا ہے۔اور کسی جائز راستہ کو اپنے لئے بند نہیں کرنا چاہئے۔اس اصل کو تسلیم کرتے ہوئے اگر راؤنڈ ٹیبل کانفرنس کی سب کمیٹیوں کی شرکت ہمارے لئے مفید ہو تو ہمیں اس سے دریغ نہیں ہونا چاہئے اور اگر سفر ہو تو حتی الوسع ہمیں اس سے بچنا چاہئے " - 1 مسلم اخبار "انقلاب" (لاہور) کی فروری ۱۹۳۲ء کا واقعہ ہے کہ حکومت ت پنجاب ضمانت اور گورنر پنجاب کے نام مکتوب نے پریس آرڈنینس کے تحت "انقلاب" اور اس کے پریس سے اڑھائی اڑھائی ہزار کی ضمانتیں طلب کیں۔اور وجہ یہ بتائی کہ کشمیر کے متعلق بعض غیر صحیح واقعات شائع کئے گئے ہیں۔اسی سلسلہ میں ہندو اخبار "ملاپ اور اس کے پریس سے تین تین ہزار کی اور اخبار "کیسری " اور اس کے پریس سے دو دو ہزار کی ضمانتیں طلب کیں۔سید نا حضرت خلیفتہ المسیح الثانی کشمیر کمیٹی کے اجلاس میں شرکت کے لئے دہلی میں فروکش تھے کہ اخبارات سے اس خبر کا علم ہوا۔ہندوستان کا مسلم پریس پہلے ہی ہندوؤں کے مقابل کمزور تھا اور بعض اخبار محض مشکلات کی تاب نہ لاکر بند ہو چکے تھے اس صورت حال سے حضور از حد مشوش ہوئے اور آپ نے دہلی ہی سے گورنر پنجاب کے نام مندرجہ ذیل مکتوب لکھا۔”جناب من! میں آج ایک ایسے امر کے متعلق جناب کو توجہ دلانی چاہتا ہوں جو گو قانون کے محدود دائرہ میں تو درست ہے لیکن مصلحت وقت اور حکومت کے فوائد کے بالکل بر خلاف ہے اور میں امید کرتا ہوں کہ جناب کا سادو را ندیش رئیس صوبہ ضرور نظرثانی فرما کر اس کا تدارک کرے گا۔وہ امر یہ ہے کہ حکومت نے "انقلاب" کی اور اس کے پریس کی اڑھائی اڑھائی ہزار کی ضمانت طلب کی ہے چونکہ پریس بھی مالکان انقلاب کا ہے اس لئے و یا پانچ ہزار روپیہ کی ضمانت طلب کی گئی ہے۔جناب اس امر سے یقینا واقف ہوں گے کہ ہندوستانی پریس خصوصاً اسلامی پریس سرمایہ کے لحاظ سے بہت گری ہوئی حالت میں ہے اور کئی ایسے اخبار ہیں کہ جن کا کل سرمایہ بھی پانچ ہزار نہیں اس صورت میں یہ ضمانت اخبار کے بند کر دینے کے مترادف ہے۔جناب سے یہ امر بھی مخفی نہ ہو گا کہ "انقلاب" نے کانگریس کا مقابلہ کرنے میں اس قدر کام کیا ہے جو اپنے اثر کے لحاظ سے نہایت شاندار اور قابل قدر ہے۔"انقلاب" ہی تھا جس کے مضامین کی وجہ سے مسلمانوں کا نوجوان طبقہ کانگریس سے الگ رہا اور یہ خدمت اس قابل تھی کہ حکومت اسے شکریہ کی نگاہ سے دیکھتی۔لیکن قدر کے سوال کو الگ بھی کر دیا جائے تو اس ضمانت کا نتیجہ یہ ہو گا کہ اخبار