تاریخ احمدیت (جلد 6) — Page 23
تاریخ احمدیت جلد ۲ کمیٹی کا پر جوش حامی تھا۔سم حضرت خلیفتہ المسیح الثانی نے " راؤنڈ ٹیبل کانفرنس اور مسلمان " کے عنوان سے ایک مفصل ؟ مدلل مضمون میں مسلمانوں کو رائے دی کہ۔میں ان دونوں گروہوں کو نیک نیت اور مسلمانوں کا خیر خواہ سمجھتا ہوں لیکن میرے نزدیک یہ دونوں گروہ غلطی پر ہیں اور اس نازک موقعہ پر ہمیں اس سے زیادہ غور و فکر کی ضرورت ہے۔جس قدر کہ اس وقت مسلمان کر رہے ہیں۔ہمیں اس امر کو یاد رکھنا چاہئے کہ ہندوستان کی تاریخ قریب میں مسلمانوں کے حقوق طے کرنے کا موقعہ دوبارہ نہیں آئے گا اور یہ کہ اگر ہم آج غلطی کر بیٹھے تو ہمیں اور ہماری اولادوں کو اس کا خمیازہ بھگتنا پڑے گا۔اور گو ہم اپنے آپ کو قربان کرنے کو تیار ہوں۔ہمیں کوئی حق حاصل نہیں کہ اپنی اولادوں کو قربان کر کے غلامی کے طوقوں میں جکڑ دیں۔یقینا اس سے زیادہ بد قسمت انسان ملنا مشکل ہو گا جس کی اپنی اولادیا جس کے آباء کی اولاد اس پر لعنت کرے اور اسے اپنی ذلت کا موجب قرارد۔مسلمانان ہند کے حقوق کی اہمیت: ہمیں یہ بھی یادر کھنا چاہئے کہ ہندوستان کے مسلمانوں کا سوال دو چار ہزار آدمیوں کا سوال نہیں بلکہ آٹھ نوکر در آدمیوں کا سوال ہے اور پھر ہندوستان کے مسلمانوں کا سوال نہیں بلکہ کل دنیا کے مسلمانوں کا سوال ہے۔کیونکہ اس وقت دنیا کے مسلمانوں میں سے سب سے زیادہ بیداری ہندوستان کے مسلمانوں میں ہی ہے اور ان کی موت سے عالم اسلام کی سیاسی موت اور ان کی زندگی سے عالم اسلام کی سیاسی زندگی وابستہ ہے۔کیا اس قدر عظیم الشان ذمہ داری کی طرف سے ہم لا پرواہی کر سکتے ہیں۔اسلام تو کیا اگر ہم میں انسانیت کا ایک خفیف سا اثر بھی باقی ہے تو ہم ایسا نہیں کر سکتے۔صحیح طریق عمل: اس تمہید کے بعد میں اپنا خیال ظاہر کرتا ہوں۔میرے نزدیک ہمیں ہراک مخالفت پر بائیکاٹ کا حربہ نہیں اختیار کرنا چاہئے کیونکہ بائیکاٹ جب کہ صرف تبادلہ خیال تک محدود ہو۔صرف ذہنی نشو و نما کو روکنے کا ہی موجب ہوتا ہے اس سے زیادہ اس سے کوئی فائدہ نہیں ہو تا۔میرے نزدیک صحیح طریق عمل یہ ہوتا ہے کہ ہم اپنے مقصود کے حصول کو تو اصل قرار دیں اور جائز ذرائع کو فرع ہیں جو جائز ذریعہ ہمیں حاصل ہو ہم اسے استعمال کرلیں اور ذریعہ کو مقصد کا قائم مقام بنا کر اپنی سب تو نہ اس کی طرف نہ لگا دیں۔ایک وکیل اگر دیکھے کہ اس کے موکل کو اس کے نقطہ نگاہ کے سوا اور کوئی نقطہ نگاہ فائدہ پہنچا سکتا ہے تو اسے اس کے اختیار کرنے میں دریغ نہیں ہونا چاہئے۔پس ہمیں اس امر پر زیادہ بحث نہیں کرنی چاہئے کہ ہم نے کون سا ذریعہ حصول مراد کے لئے آج سے پہلے پسند کیا