تاریخ احمدیت (جلد 6) — Page 404
تاریخ احمدیت۔جلد ۶ ۳۹۰ حقوق کا پامال کرنا معمولی بات سمجھتے تھے خصوصاً اس لئے کہ عیسائی ہندو اور مسلمان عوام سب احمدیوں کے مخالف تھے۔انگریزی حکومت میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے خلاف اندرونی طور پر کتنا زہر بھرا ہوا تھا اس کا اندازہ پنجاب کے نیم سرکاری روزنامہ ”سول اینڈ ملٹری گزٹ " (۲۴/ اکتوبر ۱۸۹۴ء صفحه ۳ کالم ) کے مندرجہ ذیل مضمون سے بخوبی کیا جا سکتا ہے ایک خطرناک مذہبی جنونی: پنجاب میں ایک مشہور مذہبی جنونی ہے۔۔۔اس قسم کا وہمی اور مذہبی جنونی بلاشک پولیس کی نگرانی میں ہے۔جب کبھی وہ باہر تبلیغ کرتا ہے امن عامہ میں بڑے فسادات کا فوری خطرہ ہوتا ہے۔کیونکہ اس کے ماننے والے بے شمار ہیں اور وہ مذہبی جنون میں اس سے کچھ ہی کم ہیں۔اس قسم کے شخص کے بے معنی تصورات سے کسی سیاسی خطرہ کا اندیشہ تو نہیں ہو سکتا۔لیکن اس کی دیوانگی میں بھی ایک ڈھنگ ہے۔اس کی ادبی قابلیت مسلمہ ہے اور اس کی تصانیف بہت ہیں اور عالمانہ ہیں۔وہ تمام عناصر موجود ہیں جن کی ترکیب سے ایک خطر ناک مرکز بنا کرتا ہے۔۔قادیان کامولوی سالہا سال ہمارے زیر نظر رہا ہے اور ہم اپنی ذاتی معلومات کی بناء پر جو ہمیں اس کی ذات اور اس کے کام کے متعلق حاصل ہیں۔مندرجہ بالا رائے کی پوری طرح تائید کرتے ہیں۔ہمارے نزدیک وہ طاقت پکڑ رہا ہے۔اور غالبا مستقبل قریب میں ہم پر یہ فرض عائد ہو جائے گا کہ ہم اس کی طرف زیادہ تفصیل سے توجہ دیں۔( ترجمہ ) انگریزی حکومت کی اس مخالفت کی ایک سیاسی وجہ یہ بھی تھی کہ مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی نے اپنے رسالہ ” اشاعۃ السنہ" میں حکومت کو مخاطب کرتے ہوئے اشتعال دلایا۔گور نمنٹ کو اس کا اعتبار کرنا مناسب نہیں اور اس سے پر حذر رہنا ضروری ہے ورنہ اس مہدی کادیانی سے اس قدر نقصان پہنچنے کا احتمال ہے جو مہدی سوڈانی سے نہیں پہنچا "۔احمدیوں کے خلاف انگریز کی مخالفت کی بنیادی وجہ مذہبی تھی۔کیونکہ تحریک احمدیت کا مقصد ہی عیسائیت کے دجل و فریب کو پاش پاش کرنا تھا۔یہی وجہ ہے کہ سلسلہ کے معاند مولوی کرم دین صاحب آف بھیں ضلع جہلم نے انگریزی حکومت کو اکساتے ہوئے تحریر کیا تھا۔گور نمنٹ کو اپنی وفادار اور مسلمان رعایا پر اطمینان ہے اور گورنمنٹ کو خوب معلوم ہے کہ مرزا جی جیسے مهدی مسیح وغیرہ بننے والے ہی کوئی نہ کوئی آفت سلطنت میں برپا کیا کرتے ہیں۔مسلمان تو یہ زمانه مهدی و مسیح کا قرار ہی نہیں دیتے کیونکہ یہ امن اور انصاف و عدل کا زمانہ ہے اور خلق خدا کو ہر طرح سے اس سلطنت کے سایہ میں امن اور آسائش حاصل ہے اور مہدی اور مسیح کے آنے کی جب ۱۹۳