تاریخ احمدیت (جلد 6) — Page 403
تاریخ احمدیت جلد ۲ دو سرا باب (فصل ششم) ٣٨٩ انگریزی حکومت کی طرف سے جماعت احمدیہ کی مخالفت اب ہم یہ بتاتے ہیں کہ ہندوؤں اور ان کی ہمنوائی میں مجلس احرار نے انگریزی حکومت کو جماعت احمدیہ کے خلاف مشتعل کرنے اور اکسانے کا جو چو تھا خطرناک ہتھیار استعمال کیا۔وہ صرف چند تقریروں اور تحریروں تک ہی محدود نہیں تھا بلکہ انہوں نے اس کے ساتھ ہی سرکاری حلقوں میں اندر ہی اندر ایسی راہ نکال لی کہ حکومت انگریزی کے اعلیٰ افسر مثلا وائسرائے گورنر پنجاب وغیرہ اس پراپیگنڈا کا شکار ہو گئے اور جماعت احمدیہ کی مخالفت میں اٹھ کھڑے ہوئے اور خود حکومت سلسلہ احمد یہ کے مقابلہ کے لئے ڈٹ کر سامنے آگئی۔جماعت احمدیہ اور انگریزی حکومت مگر قبل اس کے کہ اس کی تفصیل پر روشنی ڈالی جائے ہم یہ بتانا ضروری سمجھتے ہیں کہ مہدی سوڈانی کے خلاف نبرد آزما ہونے کی وجہ سے انگریزی حکومت کے لئے کسی شخص کا دعویٰ مہدویت کرنا بہت بڑی وجہ اشتعال تھا۔یہی وجہ ہے کہ اگر چہ برطانوی حکومت نے اپنے آئین و قانون کے مطابق جہاں ہندوستان کی تمام رعایا کو مذہبی آزادی دی وہاں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو بھی اس حق سے محروم نہیں کیا۔مگر جیسا کہ حضرت خلیفتہ المسیح الثانی نے ۲۱/ ستمبر ۱۹۲۳ء کے الفضل میں تحریر فرمایا۔شروع ہی سے وہ آپ کو اور آپ کی تحریک کو مشکوک نگاہ سے دیکھتی اور کڑی نگرانی رکھتی آرہی تھی۔خفیہ پولیس حضور علیہ السلام سے متعلق رپورٹیں بھجوائی۔قادیان جانے والے مہمانوں کی نگرانی کرتی اور ہمیشہ اس تاک میں رہتی کہ کسی منصوبہ کا پتہ لگتے ہی آپ کو گرفتار کر لیا جائے بعض انگریز حکام ان رؤساء کو جن کی نسبت ان کو معلوم ہو تاکہ احمدیت کے ساتھ تعلق رکھتے ہیں بوقت ملاقات اشارة " کہہ دیتے کہ گورنمنٹ تو اس سلسلہ کو مشکوک نظر سے دیکھتی ہے پھر آپ اس سے کیوں وابستہ ہیں۔بالا افسر حکومت کے احمدی ملازمین کو بہت دق کرتے تھے اور انگریزی حکام ان کے