تاریخ احمدیت (جلد 6) — Page 398
تاریخ احمدیت۔جلد ۶ ۳۸ کا دعوی کرانے کے بعد اسلامی رنگ میں فتویٰ صادر کرایا کہ اب جہاد ہمیشہ کے لئے حرام ہو چکا ہے"۔انگریزوں کے خلاف تحریک ۱۸۵۷ء میں اٹھی اور جماعت احمدیہ کا قیام ۱۸۸۹ء میں ہوا۔گویا افسانہ سازوں کی نگاہ میں انگریز بتیس سال تک تو صرف اسی نسخہ کی سوچ بچار میں رہا کہ کسی ایک شخص کو ”نبی" بنا دینا چاہئے تو اسلامی مرکزیت ختم ہو جائے گی۔یا للعجب۔پھر اس کے خاتمہ کی جو یہ صورت تجویز کی گئی کہ جہاد کے حرام ہونے کا فتویٰ صادر کر ا لیا۔تو یہ بات بھی غلط ہے اس لئے کہ حضرت مسیح موعود نے جہاد بالسیف کے التواء کا فتویٰ ۱۹۰۰ ء میں دیا۔مگر ہندوستان کے مشہور و مستند علماء ہی نہیں مکہ کے چاروں مفتی مدتوں قبل یہ فتوی دے چکے تھے پس جو کام ہندوستان اور عرب کے علماء برسوں سے کامیابی کے ساتھ انجام دے چکے تھے اس کے لئے اب کسی ”نبی " کے کھڑے کرنے کی ضرورت ہی کیا تھی۔پھر یہ کہنا کہ حضرت مسیح موعود نے ہمیشہ کے لئے جہاد بالسیف حرام قرار دیا یہ بھی محض بہتان ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام اپنی تصنیف "نور الحق " حصہ اول صفحه ۴۵ پر صاف تحریر فرماتے ہیں کہ ”جو مسلمانوں سے بے وجہ لڑتے ہیں اور مومنوں کو ان کے گھروں اور وطنوں سے نکالتے ہیں اور خلق اللہ کو جبرا اپنے دین میں داخل کرتے ہیں اور دین اسلام کو نابود کرنا چاہتے ہیں اور لوگوں کو مسلمان ہونے سے روکتے ہیں یہ وہ لوگ ہیں جن پر خدا تعالٰی کا غضب ہے اور مومنوں پر واجب ہے جو ان سے لڑیں اگر وہ باز نہ آویں"۔122 پھر فرمایا۔و امرنا ان نعد للكفرين كما يعدون لنا ولا نرفع الحسام قبل ان نقتل بالحسام۔ترجمہ: اللہ تعالٰی نے ہمیں حکم دیا ہے کہ ہم کفار کے مقابلہ کے لئے اسی طرح تیاری کریں جس طرح وہ تیاری کرتے ہیں۔اور جب تک ہمیں تلوار سے قتل نہ کیا جائے ہم ابتداء تلوار نہ اٹھا ئیں۔نیزار شاد فرمایا۔اس زمانہ میں جہاد روحانی صورت سے رنگ پکڑ گیا ہے اور اس زمانہ کا جہاد یہی ہے کہ اعلاء کلمہ اسلام میں کوشش کریں۔مخالفوں کے الزامات کا جواب دیں۔دین اسلام کی خوبیاں دنیا میں پھیلا ئیں یہی جہاد ہے جب تک خدا تعالیٰ کوئی دوسری صورت دنیا میں ظاہر کر دے " ۱۷۸ -۲- احرار نے یہ بھی پراپیگنڈا کیا کہ ” جب فرنگی نے نبی پیدا کر لیا تو اس کے تمام کام آسان ہو گئے