تاریخ احمدیت (جلد 6) — Page 396
تاریخ احمد بیت - جلد ۷ ۳۸۲ مسلمانوں کو ناخنوں تک کا زور لگانے کے بعد جو اکثریت حاصل ہوئی ہے اور وہ بھی اس لئے کہ تمام مسلمانوں نے متحد ہو کر اس کا مطالبہ کیا وہ نہایت ہی قلیل ہے اور جماعت احمدیہ کے جداگانہ اقلیت قرار پا جانے کی صورت میں وہ قطعا قائم نہ رہ سکے گی۔یہی غرض ان لوگوں کے مد نظر ہے جو احراریوں کی تائید کر رہے ہیں۔پھر جماعت احمدیہ کو یہ پوزیشن حاصل ہو جانے پر بات یہیں ختم نہ ہو جائے گی بلکہ شیعہ اور اہلحدیث مسلمان جو پہلے سے ہی جداگانہ اقلیت بننے کی ضرورت محسوس کر رہے اور اس کے لئے زور لگا رہے ہیں۔وہ بھی اپنے مطالبہ میں کامیاب ہو جائیں گے۔ایسی صورت میں مسلمانوں کی جو حالت ہو سکتی ہے۔اسے تصور میں لاکر غور کیا جائے تو معلوم ہو سکتا ہے کہ جماعت احمدیہ کو جداگانہ اقلیت قرار دینے کی اس قدر پر زور حمایت و تائید پنجاب کا غیر مسلم پریس کیوں کر رہا ہے اور احراری اس مطالبہ کو پیش کر کے مسلمانوں کی تباہی کے لئے کتنا گہرا گڑھا کھود رہے ہیں "۔1 جماعت احمدیہ کی گری ہمدردیاں ہمیشہ ہی مسلم لیگ کے ساتھ وابستہ رہی تھیں۔اس تیسرا ہتھیار لئے مجلس احرار اسلام ہند نے جماعت احمدیہ کو بد نام کرنے کے لئے بھی وہی سیاسی حربے استعمال کئے جو کانگریس اور اس کے ہمنو اعلماء ہمیشہ مسلم لیگ کے خلاف استعمال کرتے آرہے تھے اور وہ یہ کہ معاذ اللہ بانی جماعت احمدیہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام انگریز کے جاسوس تھے۔اور یہ که احمدی برطانوی امپیریلزم کے کھلے ایجنٹ ہیں۔دو سروں کو انگریز کے پٹھو ہونے کا الزام دیتا کانگریس کے ہندو لیڈروں کا ایسا دل پسند اور عام حربہ تھا کہ جو دراصل ان دنوں وہ اپنے حریف کو خواہ وہ ان کا ہم خیال ہی کیوں نہ ہو نا کام بنانے کے لئے کھلے بندوں اور بے دریغ استعمال کرتے تھے۔جیسا کہ چودھری افضل حق صاحب تحریک کشمیر کی طرف اشارہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں۔مہاتما گاندھی بڑے دھڑلے کا آدمی ہے جس کے بر خلاف ہو جائے اس کو خاک میں ملا کر چھوڑتا ہے۔۔۔۔لنڈن میں آپ نے سنا کہ احرار کشمیر پر چڑھ دوڑے۔اس مرد دانا نے۔۔۔۔اعلان کیا کہ یہ تحریک انگریز کی تقویت کے لئے شروع کی گئی ہے اس زمانے میں اس داؤں سے کوئی بچا تھا اس داؤں کا گھاؤ گہرا ہوا" - DA مجلس احرار اسلام ہند کے جوشیلے لیڈروں نے کانگریس کے اس سیاسی ”داؤں " سے خاص طور پر فائدہ اٹھایا اور اپنے نظریات سے اختلاف کرنے والوں کو انگریزوں کے جاسوس اور ایجنٹ قرار دینے میں ہمیشہ انتہائی تشدد پسندی کا مظاہرہ کیا۔بطور نمونہ صرف چند تحریرات درج ذیل کی جاتی ہیں۔(1) " حکومت برطانیہ کی اجازت سے تحریک خاکسار کی ابتداء کی گئی 1۔۔چوھدری افضل حق صاحب