تاریخ احمدیت (جلد 6)

by Other Authors

Page 380 of 619

تاریخ احمدیت (جلد 6) — Page 380

تاریخ احمدیت۔جلد ۶ ۱۰ / مارچ ۱۹۳۲ء ( صفحہ ۶ کالم ۳) میں لکھا۔مجلس احرار کے موجودہ ارباب حل و عقد نے احرار کا جو تازہ پروگرام اور لائحہ عمل تیار کیا ہے۔وہ مسلمانوں کے سواد اعظم کا مسلک نہیں کہلا سکتا۔اسی وجہ سے عام مسلمانوں کو احرار کے جدید پروگرام سے بیزاری ہوئی۔احرار رہنماؤں نے جدید سکیم کے ماتحت پکینگ بدیشی مال کا بائیکاٹ بغیر ٹکٹ کے ریلوے میں سفر کرنا اور ڈاک خانہ میں بیرنگ خطوط ڈالنا وغیرہ وغیرہ نکات کو اپنے پروگرام میں جزو اعظم قرار دیا ہے اور اس پروگرام کو مرتب کرنے کی وجہ یہ بتائی ہے کہ انگریز ہماری تحریک کے راستہ میں حائل ہو گیا ہے اس کی رکاوٹ کی وجہ سے مظلوم کشمیری مسلمانوں کے لئے ڈوگرہ شاہی مظالم سے استخلاص حاصل کرنا مشکل ہو گیا ہے۔۔۔جدید سکیم پر نظر ڈالنے سے معلوم ہو جائے گا کہ احرار کا جدید لائحہ عمل قطعاً نا قابل عمل ہے۔پکٹنگ اور بائیکاٹ دو ایسے حربے ہیں جن میں رائی اور رعایا دونوں کے لئے سخت مصائب اور جنگ کا سامان ہے۔مسلمانوں کو اس سے کوئی فائدہ نہیں ہو سکتا جناب چراغ حسن صاحب حسرت نے اس واقعہ کا تذکرہ اپنی کتاب "کشمیر میں بھی کیا ہے اور لکھا ہے کہ۔"احرار کی تحریک ابھی اور چلتی لیکن اتفاق سے انہیں دنوں ایک ایسا واقعہ ہوا جس نے اس اچھی خاصی تحریک کو ختم کر دیا۔۔۔یعنی احرار کے رضا کاروں نے کانگریس کے رضا کاروں کی طرح شراب اور بدیشی کپڑے کی دکانوں پر پکٹنگ شروع کر دی۔کہنے کو تو اب بھی کشمیر کا مسئلہ ان کا قبلہ مقصود تھا۔اور یہ طریقہ صرف اس لئے اختیار کیا گیا تھا کہ مہاراجہ کشمیر کے پشتی بان یعنی انگریز کو زک پہنچائی جائے لیکن عام مسلمان یہ بار یک باتیں کہاں سمجھ سکتے تھے۔انہوں نے یہی نتیجہ نکالا کہ احرار پھر کانگرس سے جاملے ہیں "۔ITA