تاریخ احمدیت (جلد 6)

by Other Authors

Page 377 of 619

تاریخ احمدیت (جلد 6) — Page 377

تاریخ احمدیت جلد ۷ صفوں کے اکھڑے پاؤں نہیں جمتے "۔پھر لکھتے ہیں :۔اگرچہ تحریک سے جان نکل چکی تھی لیکن مخلصین کا ایک حصہ ایسا ضرور تھا۔کہ اگر ان کے بچوں کے نان و نمک کا سامان کر دیا جائے تو وہ جیل کو کھیل سمجھیں۔اب اس کے سوا کوئی چارہ نہ تھا کہ مالی مدد بہم پہنچائی جائے سیالکوٹ میں ایک معقول رقم پڑی تھی۔دوستوں نے مشورہ دیا کہ تم خود جاؤ لے آؤ۔وقت کی بات ہوتی ہے۔کہ سیالکوٹ کے مقامی کارکن ایک کانگرسی دولت کے زیر اثر آچکے تھے۔انہوں نے بھرے جلسے میں کہہ دیا کہ یہ رقم مرکز کو نہیں مل سکتی۔یہ بہت ہی برا ہوا۔اگر یہ مدد مل جاتی تو قیاس تھا کہ تحریک ایک ماہ اور بغیر ہماری کمزوری کے اظہار کے زور پر نظر آتی۔۱۲۴ مردوں کے بعد عورتوں کو جیل میں بھیجوانے کی ناکام کوشش ادراری مردوں کے عزائم جو یوں پست ہو گئے تو عورتوں کو جیل بھجوانے کی کوشش جاری کر دی گئی۔مگر یہ جد وجہد بھی پوری طرح نا کام ہو گئی۔چنانچہ چوہدری افضل حق صاحب لکھتے ہیں۔" جب مردوں کا مذہب میدان محاربہ کو چھوڑ کر رمضان کے روزوں اور نمازوں کے لئے معتکف ہو جانا ہو تو حالات زمانہ سے ناواقف رکھی ہوئی عور تیں تعلیم اسلامی سے بے خبر بے چاریاں کیا پہاڑ ڈھائیں مردہ تحریک کو زندہ کرنا کسی کے بس کا روگ نہ تھا۔بہتیرے ہاتھ پاؤں مارے اور بڑے جتن کئے مگر خاکستر کو کون لگا سکتا ہے۔ناچار عورتوں کو آگے بڑھایا کہ شاید مردوں کی ہمت بڑھے مگر ان کی نبضیں چھوٹی ہوئی تھیں"۔۱۱۴ ڈاکٹر علم الدین صاحب میونسپل کمشنر امر تسر کا تبصرہ ڈاکٹر چوہدری علم الدین مره صاحب میونسپل کمشنر امر تسر نے تحریک کشمیر میں احرار کی افسوسناک اور نقصان دہ سرگرمیوں پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا۔احرار کا ایک وفد کشمیر پہنچا تو حکومت کشمیر نے انہیں دعوت دی کہ وہ عرصہ قیام کشمیر میں ان کے ہاں مہمان رہیں جسے احراری لیڈروں نے منظور کر لیا۔اور حکومت کشمیر کے مہمان بن کر رہے۔ان دنوں حکومت اور رعایا میں کشمکش تھی مسلمان نہ چاہتے تھے کہ کوئی ان کا حامی حکومت سے تعاون کرے چنانچہ احراریوں کا حکومت کے ہاں فروکش ہونا کشمیری مسلمانوں کو سخت ناگوار گزرا۔بالخصوص اس حالت میں کہ احراری وفد نے مسلمانوں سے پوچھا تک بھی نہ کہ وہ کیا چاہتے ہیں بلکہ اپنی مرضی سے ہی چند مطالبات حکومت کشمیر کے سامنے پیش کر دیئے۔احرار کی اس خود سرانہ حرکت سے مسلمانان کشمیر بے حد رنجیدہ ہوئے۔اور انہوں نے سمجھ لیا کہ ہو نہ ہو اس جماعت کا مقصد مہاراجہ کی