تاریخ احمدیت (جلد 6)

by Other Authors

Page 360 of 619

تاریخ احمدیت (جلد 6) — Page 360

تاریخ احمدیت۔جلد ۲ ۳۶ غصہ میں آکر ہونٹ چہاتے جاتے تھے اور فرماتے جاتے تھے کہ دس ہزار جینا اور شوکت اور ظفر جو اہر لال نہرو کی جوتی کی نوک پر قربان کئے جاسکتے ہیں"۔ZA قومیت کانگریس کی قومیت متحدہ کے خلاف مذہبی طاقت (جماعت احمدیہ) متحدہ" کے خلاف ملک میں دوسری منظم طاقت جماعت احمدیہ کی شکل میں موجود تھی جو مذ ہبی اقدار کی علمبردار و حامل تھی اور جو اپنے بنیادی عقائد و نظریات کی بناء پر اس ہندو فار مولا کو کبھی تسلیم نہیں کر سکتی تھی کیونکہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے سب سے پہلے اپنی آخری تصنیف ”پیغام صلح " میں بالوضاحت دو قوموں کا نظریہ پیش فرمایا تھا چنانچہ حضور نے ہم وطنوں کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا۔دوستو ا یقینا سمجھو کہ اگر ہم دونوں قوموں میں سے کوئی قوم خدا کے اخلاق کی عزت نہیں کرے گی تو وہ قوم جلد ہلاک ہو جائے گی۔پھر فرمایا۔یہ بات کسی پر پوشیدہ نہیں کہ اتفاق ایک ایسی چیز ہے کہ وہ بلا ئیں جو کسی طرح دور نہیں ہو سکتیں اور وہ مشکلات جو کسی تدبیر سے حل نہیں ہو سکتیں وہ اتفاق سے حل ہو جاتی ہیں پس ایک عظمند سے بعید ہے کہ اتفاق کی برکتوں سے اپنے تئیں محروم رکھے ہندو اور مسلمان اس ملک میں دو ایسی قومیں ہیں کہ یہ ایک خیال محال ہے کہ کسی وقت مثلاً ہندو جمع ہو کر مسلمانوں کو اس ملک سے باہر نکال دیں گے یا مسلمان اکٹھے ہو کر ہندوؤں کو جلا وطن کر دیں گے بلکہ اب تو ہندو مسلمانوں کا باہم چولی دامن کا ساتھ ہو رہا ہے۔اگر ایک پر کوئی تباہی آوے تو دوسرا بھی اس میں شریک ہو جائے گا اور اگر ایک قوم دوسری قوم کو محض اپنے نفسانی تکبر اور مشیخت سے حقیر کرنا چاہے گی تو وہ بھی داغ حقارت سے نہیں بچے گی اور کوئی ان میں سے اپنے پڑوسی کی ہمدردی میں قاصر ر ہے گا تو اس کا نقصان وہ آپ بھی اٹھائے گا جو شخص تم دونوں قوموں میں سے دوسری قوم کی تباہی کی فکر میں ہے اس کی اس شخص کی مثال ہے جو ایک شاخ پر بیٹھ کر اسی کو کاتا ہے"۔کانگریس ہمیشہ ہندو مسلم کشمکش کو ہندو مسلم مسئلہ کی اساس مذہبی ہے نہ کہ سیاسی محض ایک سیاسی اور اقتصادی مسئلہ قرار دیتی تھی۔مگر حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اسے بنیادی اعتبار سے خالص مذہبی سوال قرار دیا اور فرمایا۔" مجھے اس جگہ ان باتوں کے ذکر کرنے سے کچھ غرض نہیں کہ وہ نفاق اور فساد جو ہندو اور مسلمانوں میں آج کل بڑھتا جاتا ہے اس کے وجوہ صرف مذہبی اختلافات تک محدود نہیں ہیں بلکہ